رسائی کے لنکس

ٹی ٹونٹی: فائنل کے لیے فیورٹ کون؟


ٹی ٹونٹی: فائنل کے لیے فیورٹ کون؟

ٹی ٹونٹی: فائنل کے لیے فیورٹ کون؟

ٹی ٹونٹی ورلڈکپ سیمی فائنل کے مرحلے میں پہنچ چکا ہے۔ جنوبی افریقہ، بھارت اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں جن کا شمار فیورٹ ٹیموں میں کیا جا رہا تھا، ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکی ہیں۔ گروپ ای سے آسٹریلیا اور سری لنکا جبکہ گروپ ایف سے پاکستان اورانگلینڈ سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔
کون سر کرے گا سیمی فائنل کا مرحلہ، کون کھیلے کا فائنل اور ٹی ٹونٹی دنیا پرکس کی حکمرانی ہو گی؟ یہ سوالات اس وقت کرکٹ کے مداحوں کے ذہنوں میں گردش کر رہے ہیں۔
دونوں سیمی فائنل سینٹ لوشیا کی وکٹ پر ہیں۔ یہ وہی وکٹ ہے جہاں پر پاکستان نے مضبوط جنوبی افریقہ کی ٹیم کو شکست دی اور سری لنکا نے بھار ت کو ہرا کر سیمی فائنل میں کوالیفائی کیا۔ یہ وکٹ سپنرز کے لیے سازگار سمجھی جارہی ہے۔ اور اس کا فائدہ مبصرین کے مطابق پاکستان اور سری لنکا کی ٹیموں کو ہو سکتا ہے جبکہ اس ٹورنامنٹ میں ناقابل شکست آسٹریلیا اور ان فارم انگلینڈ کی کامیابیوں کا تسلسل ان کی فتح کے امکانات بڑھا دیتا ہے۔
پہلا سیمی فائنل جمعرات کو سینٹ لوشیا میں انگلینڈ اور سری لنکا کے درمیان ہے۔ پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹراور موجودہ چیف سیلیکٹر محسن حسن خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا ہے کہ لنکن ٹیم اگرچہ ہر طرح کی کرکٹ میں اچھا مظاہرہ کرتی ہے لیکن مرلی دھرن کی عدم موجودگی اور جے سوریا اور تلکا رتنے دلشان کے آوٹ آف فارم ہونے سے ٹیم کے فائنل میں پہنچنے کے امکانات انگلینڈ کے مقابلے میں کم ہیں۔

محسن حسن کے مطابق اس میچ میں انگلینڈ کی جیت کے امکانات ساٹھ فیصد ہیں اور سری لنکا کے چالیس فیصد۔ پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹراور ایک روزہ میچوں میں پہلی ہیٹ ٹرک کرنے والے جلال الدین کے رائے مختلف ہے۔ وہ اس میچ میں سری لنکا کو فیورٹ خیال کرتے ہیں۔
دوسرا سیمی فائنل جمعے کے روز دفاعی چیمپین پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ہے۔ پاکستان توقع کے مطابق چار سپنرز کے ساتھ میدان میں اترے گا اور آسٹریلیا کا انحصار پیس بیٹری کے علاوہ سپن باولنگ میں سٹیون سمتھ، مائکل کلارک اور ڈیوڈ ہسی پر ہوگا۔
جلال الدین کہتے ہیں کہ سوائے سپن کے شعبے کے، آسٹریلیا کا پلہ کھیل کے تمام دیگر شعبوں میں پاکستان پر بھاری ہے۔

اس کے تمام پلیئرزفارم میں ہیں اور وہ اب تک ناقابل شکست چلے آرہے ہیں۔ کینگروز بری سے بری صورتحال سے نکلنے کا ہنر جانتے ہیں جبکہ پاکستانی معاملہ اس حوالے سے کمزور ہے۔

لیکن وہ یہ مانتے ہیں کہ پاکستان کی ٹیم میں شاہد آفریدی، عبدالرزاق، عمراکمل، کامران اکمل، سعید اجمل جیسے پلیئرز موجود ہیں اگر ان میں سے کسی نے بھی غیر معمولی کارکردگی دکھائی تو نتیجہ پاکستان کے حق میں ہو سکتا ہے۔

محسن حسن خان، کہتے ہیں کہ ایک چیف سیلیکٹر کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک کرکٹر اور پاکستانی کی حیثیت سے کہوں گا کہ پاکستان کی ٹیم کا جو کامبی نیشن بنا ہے خاص طور پر لیفٹ آرم سپنر عبدالرحمان کے آنے سے، وہ پاکستان کو فائنل میں لے جاسکتا ہے۔ ان کے خیال میں ٹیم آسٹریلیا کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ سابق پاکستانی کپتان رمیض راجہ کے بقول ٹی ٹوئنٹی کرکٹ پاکستان کے کھلاڑیوں کے خون میں شامل ہے۔
پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو مبصرین دنیائے کرکٹ کی unpredictable ٹیم خیال کرتے ہیں۔ اور اسے دھیرے دھیرے جان پکٹرنے والی ٹیم بھی سمجھا جاتا ہے۔ ٹورنامنٹ سے باہر ہوتے ہوتے یہ ٹیم ردھم میں آنے کے بعد ورلڈ کپ 1992، اور گزشتہ ٹی ٹونئٹی ورلڈ کپ کے وکٹری سٹینڈ پر فاتح کی حیثیت سے آ چکی ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ آسٹریلوی کپتان مائیکل کلارک پاکستان کو سیمی فائنل میں ایک مشکل ٹیم، ایک مشکل حریف قرار دے چکے ہیں۔ تاہم وہ پر اعتماد ہیں کہ ان کی ٹیم فتوحات کا تسلسل برقرار رکھے گی اور فائنل تک بھی رسائی حاصل کر لے گی۔
پاکستانی ٹیم ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ پر حکمرانی برقرار رکھ پاتی ہے یا کوئی اور ٹیم اس مختصر طرز کے کرکٹ پر اپنا لوہا منوا لیتی ہے، اس کا فیصلہ سولہ مئی کو باربیڈوس میں ہو گا۔

XS
SM
MD
LG