رسائی کے لنکس

شہروں اور دیہاتوں میں چھپے دشمن کے خلاف بھی کارروائی ہو گی: وزیراعظم


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

اُدھر عمران خان نے کہا ہے کہ افغان پناہ گزینوں میں سے پانچ لاکھ غیر قانونی طور پر صوبہ خیبر پختونخواہ میں رہ رہے ہیں جن کی واپسی کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ملک کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے آپریشن ’ضرب عضب‘ جاری ہے اور اب دوسرا آپریشن اُس دشمن کے خلاف کیا جائے گا جو ملک کے شہروں اور دیہاتوں میں چھپا بیٹھا ہے۔

پیر کو اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں انسداد دہشت گردی کی قومی حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے اجلاس کے دوران کہا کہ دہشت گردوں اور اُنھیں تحفظ فراہم کرنے والوں کے درمیان حکومت تفریق نہیں کرے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی اور فرقہ واریت کینسر کے مرض کی طرح ہیں اور اُن کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ اس لعنت سے ملک کو نجات دلائی جائے۔

اس سے قبل وزیر داخلہ چوہدری نثار نے اتوار کی شام ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم کو کردار ادا کرنا ہو گا۔

’’اب یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ پاکستان کے اندر رہ کر اسٹیٹ آف پاکستان کو چیلنج کیا جائے۔ پوری پاکستانی قوم کو یہ احساس کرنا چاہیئے کہ ہم حالت جنگ میں ہیں۔‘‘

اُدھر صوبہ خیبر پختونخواہ میں حکمران جماعت تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پیر کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ پشاور میں اسکول پر حملے کے بعد دہشت گردی کے خلاف پوری قومی یکجا ہوئی ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ افغان پناہ گزینوں میں سے پانچ لاکھ غیر قانونی طور پر صوبہ خیبر پختونخواہ میں رہ رہے ہیں جن کی واپسی کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

’’اگر ہم صوبے اور ملک کی سکیورٹی چاہتے ہیں تو ہمیں یہ کام کرنا ہو گا۔‘‘

پاکستان میں اس وقت تقریباً 17 لاکھ اندراج شدہ افغان پناہ گزین موجود ہیں جب کہ حکام کے مطابق لگ بھگ دس لاکھ ایسے افغان باشندے بھی غیر قانونی طور پر ملک میں رہ رہے ہیں جن کے کوائف کا انداج موجود نہیں ہے۔

پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر گزشتہ ہفتے دہشت گردوں کے مہلک حملے کے بعد ملک میں سیاسی جماعتوں کے موقف میں مثالی یکجہتی دیکھی گئی اور مطالبہ بھی کیا گیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے موثر کارروائی کی جائے۔

اس ضمن میں قومی لائحہ عمل کی تیاری کے لیے سیاسی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی بھی کام کر رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG