رسائی کے لنکس

مہمند ایجنسی:11 اہلکاراور 24 شدت پسند ہلاک

  • شمیم شاہد

مہمند ایجنسی:11 اہلکاراور 24 شدت پسند ہلاک

مہمند ایجنسی:11 اہلکاراور 24 شدت پسند ہلاک

مہند ایجنسی کے جس علاقے میں یہ جھڑپیں ہوئی ہیں وہاں صحافیوں کی رسائی تقریباً ناممکن ہے اس لیے سرکاری اور شدت پسندوں کے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق تقریباً ناممکن ہے۔

پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے، مہمند ایجنسی ، میں عسکریت پسندوں کے ساتھ شدید جھڑپوں میں 11 سکیورٹی اہلکار اور 24 جنگجو ہلاک ہوگئے ۔

مہمند ایجسنی کے پولیٹیکل ایجنٹ امجد علی خان نے سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جھڑپوں کے دوران ایک درجن اہلکار زخمی بھی ہوئے۔انھوں نے بتایا کہ نو شدت پسندوں کی لاشیں ان کے قبضے میں ہیں

بائی زئی تحصیل میں ہونے والی یہ لڑائی جمعرات کی شب اُس وقت شروع ہوئی جب لگ بھگ ایک سو پچاس شدت پسندوں نے پانچ مختلف چیک پوسٹوں پراچانک دھاوا بول دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ جھڑپیں جمعہ کی صبح تک جاری رہی اور اس دوران سکیورٹی فورسز نے گن شپ ہیلی کاپٹروں کی مدد سے حملے کو پسپا کردیا۔

شدت پسندوں نے مقامی صحافیوں کو ٹیلی فون پر اس واقعہ کی تفصیلات دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے فرنٹئیر کور کے دواہلکاروں کو یرغمال بنا رکھا ہے جبکہ چھ فوجیوں کی لاشیں بھی اُن کے قبضہ میں ہیں۔ تاہم پولیٹیکل ایجنٹ نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔

مہند ایجنسی کے جس علاقے میں یہ جھڑپیں ہوئی ہیں وہاں صحافیوں کی رسائی تقریباً ناممکن ہے اس لیے سرکاری اور شدت پسندوں کے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق تقریباً ناممکن ہے۔

ایجنسی کے انتظامی مرکز غلنئی میں چھ دسمبر کو یکے بعد دیگرے ہونےو الے دو خودکش حملوں میں 43 افراد ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ خودکش بمباروں نے طالبان مخالف ایک جرگے کو نشانہ بنایا تھا اور اس واقعے میں اہم قبائلی رہنماؤں سمیت کئی سرکاری اہلکار بھی مارے گئے تھے۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ مہمند ایجنسی میں طالبان عسکریت پسندوں کے خلاف پچھلے کئی عرصے سے جاری آپریشن میں عسکریت پسندوں کو ایک چھوٹے سے علاقے تک محدود کردیا گیا ہے جس کی سرحدیں باجوڑایجنسی اور افغانستان کے مشرقی صوبے کنڑ سے ملتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG