رسائی کے لنکس

برطانوی بچے کی بازیابی میں کوئی پیش رفت نہیں

  • افضل رحمٰن

برطانوی بچے کی بازیابی میں کوئی پیش رفت نہیں

برطانوی بچے کی بازیابی میں کوئی پیش رفت نہیں

راولپنڈی ڈویژن کے پولیس سربراہ یعنی آر پی او اسلم ترین نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ برطانوی شہریت رکھنے والے پانچ سالہ ساحل سعید کے اغواء کاروں کی تلاش جاری ہے تاہم ابھی تک تحقیقات میں کو ئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اغوا برائے تاوان کے واقعات کی تفتیش میں عموماََ فوری پیش رفت کا امکان کم ہوتا ہے۔

پولیس کے سربراہ نے کہا کہ بچے کے والدین نے جمعرات کو برطانیہ واپس جانا تھا اور ان کے پروگرام کے بارے میں لندن میں خاندان کے قریبی افراد اور لندن میں اُنھیں ائیرپورٹ پر لینے کے لیے آنے والے ٹیکسی ڈرائیور کے سوا کسی اور کو علم نہیں تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ انھی وجوہات کی بناء پراغوا کی اس واردات میں کسی ”گھر کے بھیدی“ کے ملوث ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ حکام کا کہنا ہے کہ بچے کے خاندان کی امارت کے بارے میں علاقے کے اکثر لوگ واقف تھے اوربظاہر یہی وجہ ہے کہ اغواء کاروں نے بھاری تاوان کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان کے مختلف حصوں میں حالیہ مہینوں میں اغواء برائے تاوان کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور یہ امر قابل ذکر ہے کہ پولیس کی طرف سے بازیاب کرائے جانے والے مغویوں سے ملنے والی معلومات کے مطابق ان وارداتوں کے پیچھے اکثر قریبی رشتے دار ملوث پائے گئے ۔

ساحل سعید کے والد کا کہنا ہے کہ اغواء کاروں نے ایک لاکھ پونڈ تاوان کی مانگ کی ہے۔ بچے کے والدین کا کہنا ہے کہ ان کے پاس تاوان کے طور پر دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں اور انھیں یہ بھی معلوم نہیں کہ انھیں اس مجرمانہ کارروائی کے لیے کس نے اور کیوں نشانہ بنایا۔

اطلاعات کے مطابق اسلام آباد سے تقریباً 120کلومیٹر جنوب مشر ق میں واقع جہلم کے رہائشی علاقے میں بدھ کو رات دیر گئے ڈاکو ایک گھر میں داخل ہو کر 1لاکھ 50 ہزار روپے اور سونے کے زیورات لوٹ کرلے گئے اور اس دوران اہل خانہ کے شور مچانے پر ڈاکو وہاں موجود ایک پانچ سالہ بچے کو اغواء کر کے اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔

XS
SM
MD
LG