رسائی کے لنکس

افغان فوجی مشن کے بارے میں شکوک وشبہات درست نہیں، مولن


جنرل کیانی اور ایڈمرل مولن کی ہفتہ کو K-2 کی چوٹی کے فضائی دورے کے موقع پر لی گئی تصویر

جنرل کیانی اور ایڈمرل مولن کی ہفتہ کو K-2 کی چوٹی کے فضائی دورے کے موقع پر لی گئی تصویر

امریکی فوج کے سربراہ ایڈمرل مائیک مولن کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امریکہ کے فوجی مشن کے مستقبل کے بارے میں پاکستان میں کچھ لوگ شکوک وشبہات کا اظہار کررہے ہیں لیکن وہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جولائی 2011ء کی ڈیڈ لائن کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ افغانستان میں امریکی فوجی مشن ختم ہو جائے گا۔

کابل روانگی سے قبل ہفتہ کی شب اسلام آباد میں صحافیوں سے ایک گفتگو میں انھوں نے کہا کہ صدر اوباما کی انتظامیہ کی طرف سے جولائی 2011ء میں امریکی فوجیوں کے انخلا کا عمل شروع کرنے کا اعلان دراصل سکیورٹی کی ذمہ داریاں افغانوں کو منتقل کرنے کے عمل کا آغاز ہو گا۔ لیکن انھوں نے کہا کہ اختیارات کی اس منتقلی کی رفتار زمینی حقائق میں تبدیلی کی رفتار پر منحصر ہو گی۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان کی ہر طرح سے مدد کرنے کے عزم پر قائم ہے لیکن پاکستانی سرزمین پر امریکی فوجیوں کو تعینات کرنے کا اُس کا کوئی ارادہ نہیں کیونکہ امریکہ پاکستان کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے۔

ایڈمرل مائیک مولن نے پاکستان میں ایک روزہ قیام کے دوران فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور دوسر ے اعلیٰ فوجی رہمناوں سے ملاقاتوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ، دوطرفہ فوجی تعاون اور افغانستان کی صورت حال پر خیالات کا تبادلہ کیا۔ جنرل کیانی نے ایڈ مرل مولن کو ہفتہ کے روز دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کا فضائی دورہ بھی کرایا۔

صحافیوں سے گفتگو میں ایڈمرل مولن نے جنرل اشفاق کیانی کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کے حکومت کے فیصلے پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک خود مختار ملک ہے اور یہ اس کا اندرونی معاملہ ہے۔

امریکی فوجی سربراہ کا پاکستان کا یہ انیسواں دورہ تھا۔

XS
SM
MD
LG