رسائی کے لنکس

کیلی فورنیا حملہ، امریکہ سے تعاون کو تیار ہیں: سرتاج عزیز


پاکستانی وزیراعظم نے مشیر برائے اُمور خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ اگر امریکہ رابطہ کرے گا تو جو بھی معاونت اور جو مدد ہو گی وہ ضرور دیں گے۔

پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے اُمور خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ امریکی ریاست کیلیفورنیا میں فائرنگ کے ہلاکت خیز واقعہ میں ملوث مشتبہ حملہ آور تاشفین ملک کے بارے میں تاحال امریکہ نے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔

تاہم اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان اس بارے میں امریکہ سے ہر ممکن تعاون کو تیار ہے۔

’’ابھی تو (امریکہ نے رابطہ) نہیں کیا، تو ویسے تو کافی عرصے سے وہ (تاشفین ملک پاکستان سے) باہر تھی لیکن (اگر امریکہ) رابطہ کرے گا تو جو بھی معاونت اور جو مدد ہو گی وہ ضرور دیں گے کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کرنے کا ہمارا عزم مکمل ہے۔‘‘

اس سے قبل پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار نے بھی کہا تھا کہ اگر امریکہ سے طرف سے پاکستانی شہری تاشفین ملک سے متعلق معلومات مانگی گئیں تو پاکستان ہر طرح کی مدد کو تیار ہے۔

’’جو کچھ ہمارے پاس معلومات ہیں، اگر امریکی متعلقہ ادارے نے ہم سے وہ معلومات مانگیں تو ہم بین الاقوامی قوانین کے مطابق اُن کو قانونی معاونت فراہم کریں گے، کوئی بھی واقعہ، کوئی جرم ہوتا ہے تو ہم سب ذمہ دار ہیں کہ قانونی معاونت فراہم کی جائے۔ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے۔‘‘

گزشتہ ہفتے بدھ کو کیلیوفورنیا کے شہر سان برنارڈینو میں فائرنگ کے اس واقعے میں 14 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اس حملے میں ملوث دو مشتبہ حملہ آوروں سید رضوان فاروق اور اس کی اہلیہ تاشفین ملک کو ہلاک کر دیا تھا۔

رضوان فاروق کے والد کا تعلق پاکستان سے ہے لیکن اس کی پیدائش اور پرورش امریکہ میں ہی ہوئی جب کہ تاشفین پاکستانی ہیں۔

لیکن پاکستانی وزیر داخلہ کہہ چکے ہیں کہ تاشفین ملک کا پورا خاندان 20 سال سے زائد عرصہ قبل سعودی عرب منتقل ہو گیا تھا۔

بعد میں تاشفین ملک کی شادی امریکہ میں مقیم رضوان فاروق سے ہوئی۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ کسی فرد واحد کے غلط اقدام کی وجہ سے پورے پاکستان یا دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں۔

XS
SM
MD
LG