رسائی کے لنکس

حکام کے مطابق یہ بات چیت دفاع سے متعلق اُمور کے بارے میں دوطرفہ مشاورت کا حصہ ہے۔ مذاکرات کے اس دور میں پاکستانی وفد کی قیادت سیکرٹری دفاع آصف یاسین ملک کر رہے ہیں۔

پاکستان اور امریکہ کے درمیان دفاع کے شعبے میں تعاون کو وسعت دینے کے لیے مذاکرات پیر کو واشنگٹن میں ہو رہے ہیں۔

حکام کے مطابق یہ بات چیت دفاع سے متعلق اُمور کے بارے میں دوطرفہ مشاورت کا حصہ ہے۔

مذاکرات کے اس دور میں پاکستانی وفد کی قیادت سیکرٹری دفاع آصف یاسین ملک کر رہے ہیں۔

پاکستان میں وزارت دفاع کے ایک عہدیدار کے مطابق افغانستان سے رواں سال کے اواخر تک غیر ملکی افواج کے انخلا کے تناظر میں یہ بات چیت انتہائی اہم ہے۔

سینیٹر طاہر مشہدی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ خطے کے دیرپا امن کے لیے پاکستان اور امریکہ کا ایک دوسرے سے قریبی تعاون ناگزیر ہے۔

’’جو ایک مشترکہ کوشش ہونی چاہیئے تھی طالبانائیزیشن کے خلاف وہ نہیں رہی۔ اب ان کمزوریوں کو دور کرنا بے حد ضروری ہے…. واشنگٹن میں یہ جو بات چیت ہو رہی ہے اس میں کوئی نہ کوئی جوائنٹ اسٹریٹیجی اس طرح کے ہو تاکہ کامیابی سے آگے بڑھا جا سکے۔‘‘

دفاعی اُمور کے ماہر بریگیڈئیر ریٹائرڈ محمود شاہ کہتے ہیں کہ 2014ء پاکستان اور افغانستان کے علاوہ خطے کے حالات کے لیے انتہائی اہم ہے۔

’’میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ کو اب پہلے سے بہتر طور پر صورت حال کا ادراک ہے۔ افغانستان میں جو حالات ہیں وہ (امریکہ) کے سامنے ہیں اور افغان حکومت کو بھی وہ صحیح تناظر میں سمجھنے لگے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ابھی دونوں کے معاملات میں بہتری آئی ہے۔ جو ملاقات ہو رہی ہے لگتا یہ ہے اس سے مزید بہتری آئے گی۔‘‘

گزشتہ ہفتے ہی امریکہ کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل لائیڈ جے آسٹن نے پاکستان کا دورہ کر کے فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل راشد محمود کے علاوہ سیکرٹری دفاع آصف یاسین ملک سے بھی ملاقات کی تھی۔

جنرل لائیڈ نے بھی اپنے دورے میں دوطرفہ عسکری اُمور خاص طور پر افغانستان سے متعلق تعاون پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

افغانستان سے 2014ء کے اواخر میں بین الاقوامی افواج کے انخلاء میں پاکستان کے کردار کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے کیوں کہ وہاں سے فوجی سازوسامان پاکستان کے راستے ہی منتقل کیا جانا ہے۔
XS
SM
MD
LG