رسائی کے لنکس

” سماجی واقتصادی بہتری کے لیے پاک امریکہ تحقیقاتی تعاون میں پیش رفت “


” سماجی واقتصادی بہتری کے لیے پاک امریکہ تحقیقاتی تعاون میں پیش رفت “

” سماجی واقتصادی بہتری کے لیے پاک امریکہ تحقیقاتی تعاون میں پیش رفت “

امریکہ اور پاکستان کے درمیان سائنس و ٹیکنالوجی اور تعلیم کے31 شعبوں میں مشترکہ تحقیق گذشتہ تین سالوں سے جاری ہے ۔ جس میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود کے درمیان بدھ کو اسلام آباد میں مذاکرات کا ایک دور ہوا۔

بات چیت کے بعد پاکستانی اور امریکی وفود کے سربراہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ مشترکہ تحقیق کے وہ منصبوبے جن سے بڑی تعداد میں عام پاکستانی سماجی اور اقتصادی طور پرمستفید ہو سکتے ہیں اُنھیں وسعت دینے پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا گیا۔

امریکی اور پاکستانی اداروں کے اشتراک سے جن 31 شعبوں میں تحقیق کا عمل جاری ہے ان میں بجلی کی پیدوار کے متبادل ذرائع کی تلاش، عمارتوں کو زلزے سے محفوظ بنانے کے علاوہ تعلیم ، صحت اور صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے قابل ذکر ہیں۔ پاکستان ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے اعلیٰ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اب تک امریکہ کی طرف سے اس تحقیقی عمل کے لیے تقریباً 60 لاکھ ڈالر مہیا کیے جاچکے ہیں اور حالیہ مذاکرات میں اُن منصوبوں کی نشاندہی کی جائے گی جن پر عمل کرتے ہوئے ملک بھر میں بسنے والوں کی سماجی اور اقتصادی صورت حال میں بہتری لائی جا سکے۔

بدھ کے روز اب تک کی تحقیق کے نمونوں کا عملی طور پر مظاہرہ بھی کیا گیا اور دونوں ممالک کے وفود نے ان نمونوں کودیکھنے کے بعد کہا کہ یہ اس بات کی غمازی کرتے ہے کہ پاک امریکہ اشتراک صرف کاغذوں تک محدود نہیں ہے۔

اسی تحقیق کے تناظر میں امریکی وفد کو بتایا گیا کہ 2005ء میں ایبٹ آباد میں زلزلے سے متاثرہ ایک سکول کو دوبارہ اس قابل بنا دیا گیا ہے کہ وہ آئندہ کسی شدید زلزلے کا مقابلہ کرسکتا ہے جب کہ درجنوں انجینئرز کی استدادکار بڑھانے کے لیے اُنھیں تربیت بھی فراہم کی گئی ہے جسے استعمال میں لاتے ہوئے ہزاروں کی تعداد میں اُن عمارتوں کو محفوظ بنانے میں مدد ملے گی جنہیں مستقبل میں زلزلے سے نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

XS
SM
MD
LG