رسائی کے لنکس

امریکہ سے بات چیت جاری، پاکستان


حنا ربانی کھر نے اپنے برطانوی ہم منصب ولیم ہیگ کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی

حنا ربانی کھر نے اپنے برطانوی ہم منصب ولیم ہیگ کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی

حنا ربانی کھر نے بالواسطہ طور پر یہ پیغام بھی دیا کہ امریکہ کی طرف سے سلالہ چوکی پر مہلک حملے پر معافی کے مطالبے سے پاکستان دستبردار نہیں ہوگا کیونکہ ’’پارلیمانی سفارشات کا احترام ہم سب پر لازم ہے‘‘۔

پاکستان نے اس تاثر کی نفی کی ہے کہ افغانستان میں نیٹو افواج کے لیے رسد کی بحالی اور دیگر اُمور پر امریکہ کے ساتھ ہونے والی بات چیت کا سلسلہ ٹوٹ گیا ہے۔

وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے منگل کو دفتر خارجہ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت، رابطے اور صلاح و مشورے جاری ہیں کیونکہ پاکستان نے خطے میں امن و استحکام کی کوششوں میں کردار ادا کرنے کا پختہ عزم کر رکھا ہے۔

امریکی حکام اور ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم تقریباً دو ماہ سے اسلام آباد میں قیام پذیر تھی جہاں وہ وزارت خارجہ، وزارت خزانہ اور دیگر متعلقہ محکموں کے حکام سے بات چیت کر رہی تھی۔

ان اجلاسوں میں سرفہرست نیٹو سپلائی لائن کی جلد سے جلد بحالی تھی مگر پاکستان کی جانب سے مستقبل میں اتحادی افواج کو رسد کی ترسیل پر بھاری محصولات کا مطالبہ بات چیت میں پیش رفت کی راہ میں حائل تھا۔

تاہم اسلام آباد میں سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے بھارت اور افغانستان کے دوروں میں امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا کے پاکستان مخالف بیانات نے مذاکرات کے ماحول کو کشیدہ کر دیا۔

یہی وجہ ہے کہ پینٹاگان کے ایک سینیئر افسر پیٹر لیوئے مذاکرات میں شرکت کے لیے گزشتہ جمعہ کو جب اسلام آباد پہنچے تو سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل خالد شمیم وائیں کے ساتھ ملاقات کی ان کی درخواست رد کر دی گئی، جس کے بعد امریکہ نے اپنی ٹیم کو واشنگٹن واپس بلانے کا اعلان کر دیا۔

برطانوی ہم منصب ولیم ہیگ کے ساتھ دفتر خارجہ میں مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب میں حنا ربانی کھر نے بالواسطہ طور پر یہ پیغام بھی دیا کہ امریکہ کی طرف سے سلالہ چوکی پر مہلک حملے پر معافی کے مطالبے سے پاکستان دستبردار نہیں ہوگا کیونکہ ’’پارلیمانی سفارشات کا احترام ہم سب پر لازم ہے‘‘۔

’’میں مایوس نہیں ہوں بلکہ مجھے اُمید ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان جلد ایک ایسا متفقہ سمجھوتہ طے پا جائے گا جو پاکستان اور امریکہ دونوں کے عوام کے لیے قابل قبول ہوگا۔‘‘

سابق سفیر ملیحہ لودھی کے خیال میں امریکی مذاکراتی ٹیم کی وطن واپسی پاک امریکہ کشیدہ تعلقات کے لیے کوئی نیا دھچکا نہیں ہے۔

ملیحہ لودھی

ملیحہ لودھی

’’ویسے ہی تعلقات اتنے کشیدہ اور مفلوج ہیں۔ ایک تعطل ہے جو نہیں ٹوٹ پا رہا ہے، تو میں نہیں سمجتھی کہ یہ کوئی نئی چیز ہوئی ہے۔ مگر یہ ضرور ہوا ہے کہ امریکہ کی طرف سے جو تکنیکی سطح پر مذاکرات ہو رہے تھے نئی شرائط پر نیٹو سپلائی روٹ کھولنے کے لیے وہ عمل منتقی انجام کو پہنچ گیا ہے۔‘‘

ملیحہ لودھی کہتی ہیں کہ امریکی مذاکراتی ٹیم کی واپسی کا مطلب اس عمل کی ناکامی نہیں بلکہ اس کا مطلب ہے کہ اب سیاسی سطح پر فیصلوں کا وقت آ گیا ہے اور امریکی ٹیم کے پاس یہ اختیار نہیں تھا۔

سابق سفیر کے خیال میں امریکی معافی ہی دراصل نیٹو سپلائی روٹ کھولنے کی ’’کنجی‘‘ ہے۔

’’اب امریکہ نے جی لاک (گراؤنڈ لائنز آف کمیونیکیشن) کے حوالے سے اپنی پیشکش میز پر رکھ دی ہے۔ پاکستان کا مطالبہ بھی مذاکرات کی میز پر ہے اور وہ یہ ہے کہ اس سے پہلے کہ نیٹو سپلائی روٹ کھولنے کے لیے پاکستان کوئی قدم لے، امریکہ کو سلالہ حملے پر معافی مانگنی چاہیئے۔ تو میں سمجھتی ہوں کہ اس معاملے پر تعطل برقرار ہے۔‘‘

تاہم ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ کشیدگی کے باجود پاکستان اور امریکہ چاہیں گے کہ تعلقات ٹوٹنے کی نوبت نا آئے کیونکہ ان کی شراکت داری میں ہی دنوں کا مشترکہ مفاد ہے۔

امریکہ اور نیٹو کے ساتھ مستقبل کے اشتراک عمل سے متعلق پاکستانی پارلیمان کی قرارداد میں سلالہ چوکی کے خلاف مہلک فضائی حملے اور ڈرون حملوں کی فوری بندش کے مطالبات کے علاوہ حکومت کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ نئی شرائط پر تعلقات کے لیے شفاف اور تحریری معاہدوں کو بنیاد بنائے۔

پاکستان نے اپنی سرزمین سے گزرنے والے نیٹو قافلوں پر بھاری محصولات کا مطالبہ بھی کر رکھا ہے کیونکہ اس کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک عشرے سے رسد سے لدی بھاری گاڑیوں کی آمدورفت سے قومی شاہراہوں کو ایک ارب ڈالرز سے زائد کا نقصان ہوا ہے اور محصولات سے حاصل ہونے والی رقم کو ان کی تعمیر نو پر خرچ کیا جائے گا۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ مہمند ایجنسی پر فضائی حملہ غلط فہمی کی بنا پر کیا گیا اور وہ اس سانحہ پر افسردہ ہے۔ لیکن امریکی حکام اس پر باضابطہ معافی مانگنے سے گریزاں ہیں کیونکہ انھیں خدشہ ہے کہ ایسا اقدام صدر براک اوباما کے لیے اندرون ملک سیاسی مشکلات کا باعث بن سکتا ہے جس کا براہ راست اثر نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخاب پر ہوگا۔

امریکی وفد نے اسلام آباد میں صدر زرداری سے ملاقات کی

امریکی وفد نے اسلام آباد میں صدر زرداری سے ملاقات کی

دریں اثناء صدر آصف علی زرداری نے منگل کو پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے امریکی کانگریس کے ایک وفد سے ملاقات میں دونوں ملکوں کو مل کر باہمی اعتماد کے فقدان کو دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ملاقات کے بعد ایوان صدر سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق صدر زرداری نے کہا کہ سلالہ چوکی پر حملے نے پاکستانی عوام کے جذبات کو مجروح کیا ہے اورتوقع ہے کہ امریکہ ان عوامی جذبات کو مدنظر رکھے گا۔

’’اُنھوں (زرداری) نے زور دے کر کہا ہے کہ ڈرون حملے غیر مفید اور دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کے لیے نقصان دہ ہیں۔‘‘

امریکی کانگریس کے چھ رکنی وفد نے ایوان نمائندگان کے رکن ٹاڈ پلیٹس کی سربراہی میں پاکستانی صدر سے ملاقات کی جس میں علاقائی صورت حال اورافغانستان میں سیاسی مفاہمتی عمل زیر بحث آئے۔

XS
SM
MD
LG