رسائی کے لنکس

ان دنوں پاکستانی سیاست کا سب سے اہم اور سنجیدہ موضوع پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات اور ان کے نتیجے میں مستقبل میں روا رکھا جانے والا رویہ ہے۔ان تعلقات کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت سر جوڑہوئے ہے جبکہ مشاورت میں پہلی مرتبہ حزب مخالف کی بڑی جماعتیں مسلم لیگ ن اور جے یو آئی ف بھی شامل ہے ۔

پاکستانی قیادت خصوصاً وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات انتہائی اہم ہیں ۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ تعلقات کے لئے اتفاق رائے انتہائی ضروری ہے۔

پاک امریکا تعلقات، نیٹو سپلائی اور خارجہ پالیسی سے متعلق جہاں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بحث جاری ہے اور جمعہ کو اس حوالے سے اجلاس دوبارہ ہو رہا ہے ،وہیں جمعرات کوپارلیمانی کمیٹی کی سفارشات پر حکمت عملی طے کرنے کیلئے اسلام آباد میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت سیاسی و عسکری قیادت کا اہم اجلاس منعقد ہوا ۔

اجلاس میں پیپلزپارٹی کے راہنما اور پاک امریکہ تعلقات سے متعلق سفارشات طے کرنے والی پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ میاں رضا ربانی مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین ، ایم کیو ایم کے راہنما حیدر عباس رضوی ، اے این پی کے رہنما افراسیاب خٹک ، منیر اورکزئی اور امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر شیری رحمن شامل تھیں ۔

یہ پہلا موقع ہے کہ اس اہم معاملے پر حکمت عملی طے کرنے کیلئے مشاورت میں مسلم لیگ ن کے راہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار اور جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن بھی شامل ہوئے ۔ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور ڈی جی آئی ایس آئی ظہیر الاسلام نے بھی اجلاس میں شرکت کی ۔

اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ سیاسی قیادت کی سوچ ملک کے مستقبل کا لائحہ عمل طے کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی نے جس لگن اور محنت سے سفارشات تیار کی ہیں وہ قابل ستائش ہیں ۔ پوری دنیا پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے ۔

اجلاس کے شرکا کو سیاسی و عسکری قیادت نے امریکی قیادت سے ملاقاتوں سے متعلق بھی آگاہ کیا ۔ گزشتہ روز پاکستان اور امریکا کی اعلیٰ عسکری قیادت کا چار ماہ کے تعطل کے بعد راولپنڈی میں پہلا براہ راست رابطہ اس وقت ہوا جب آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے سینٹ کام کے کمانڈر جنرل جیمز میٹس اور ایساف کمانڈر جنرل جان ایلن نے ملاقات کی ۔ اس سے قبل جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں امریکی صدر اوباما اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے بھی اہم ملاقات کی تھی ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس میں پارلیمانی کمیٹی کی تمام سفارشات کی متفقہ منظوری پر بھی غور کیا گیا اور اس حوالے سے جمعہ کو ہونے والا اجلاس انتہائی اہمیت کا حامل ہو گا ۔

گزشتہ سال 26 نومبر کو افغانستان میں موجود اتحادی افواج کے فضائی حملے میں 24 پاکستانی فوجیوں کی موت کے بعد پاک امریکہ تعلقات سرمہری کا شکار ہو گئے تھے تاہم حالیہ سیاسی و عسکری سطح پر قیادتوں کے مذاکرات سے یہ تاثر زور پکڑ رہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دونوں اتحادی ممالک کے تعلقات جلد معمول پر آ جائیں گے ۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG