رسائی کے لنکس

مشترکہ سائنسی تحقیق کے لیے امریکی امداد


امریکی ناظم الامور رچرڈ ہوگلینڈ

امریکی ناظم الامور رچرڈ ہوگلینڈ

سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں پاک امریکہ تعاون کو وسعت دینے کے لیے امریکہ نے چالیس لاکھ ڈالر کی مالی معاونت کا اعلان کیا۔

سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں جاری پاک امریکہ تعاون کو وسعت دینے کے لیے بدھ کو اسلام آباد میں واشنگٹن کی جانب سے چالیس لاکھ ڈالر کی مالی معاونت کی فراہمی کا اعلان کیا۔

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے ناظم الامور رچرڈ ہوگلینڈ اس مناسبت سے منعقدہ تقریب کے مہمان خصوصی تھے اور انھوں نے پاکستانی سائنسدانوں پر زور دیا کہ اس منصوبے سے فائدہ اٹھانے والوں کا مطمع نظر صرف اپنے ہم وطنوں کی زندگیوں کو بہتر بنانا ہونا چاہیئے۔

’’اب تک چار مراحل میں 70 مشترکہ منصوبوں کے لیے دونوں حکومتوں کی طرف سے فراہم کی جانے والی مالی معاونت دونوں ملکوں میں چالیس جامعات اور تحقیقی مراکز میں کام کرنے والے محققین مستفید ہو چکے ہیں۔‘‘

امریکی اور پاکستانی سائنسدان پانچویں مرحلے میں مختلف شعبوں میں تحقیق کے لیے اپنی تجاویز دیں گے جن میں سے منتخب محققین کو اپنا کام مکمل کرنے کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔

سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں اس دو طرفہ تعاون کے تحت اب تک صحت، زراعت، غذائیت، توانائی اور اقتصادی ترقی سمیت دیگر کئی شعبوں میں تحقیق کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔

پاکستان ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سہیل نقوی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اس اشتراک کی اہمیت بتاتے ہوئے کہا کہ اس سے مقامی محققین کو عالمی شہرت یافتہ جامعات میں سائنسدانوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا موقع ملتا ہے جس کی ان کے بقول اس وقت ملک کو اشد ضرورت ہے۔

’’ہمارا مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں تحقیق کا معیار بہتر ہو۔ ایسے شعبوں میں زیادہ تحقیق ہو جن کا پاکستان سے تعلق ہے… جو لوگ اس منصوبے کے تحت پی ایچ ڈی کرتے ہیں ان کو مقامی جامعات میں ملازمت دی جاتی ہے اور وہ یہاں پاکستان میں اپنے کام کو آگے بڑھاتے ہیں۔‘‘

دونوں ممالک کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ مشترکہ تحقیق کے اس پروگرام سے پاکستان کا نجی شعبہ مستفید ہو گا جس سے ملک میں وسیع تر اقتصادی ترقی میں مدد ملے گی۔
XS
SM
MD
LG