رسائی کے لنکس

”شمالی وزیرستان میں آپریشن کے لیے حالات ساز گار نہیں“

  • حسن سید

”شمالی وزیرستان میں آپریشن کے لیے حالات ساز گار نہیں“

”شمالی وزیرستان میں آپریشن کے لیے حالات ساز گار نہیں“

امریکی سینٹ کے ارکان کے اس بیان پر کہ پاکستانی حکام نے ا ن سے ملاقات میں شمالی وزیرستان میں بھی فوجی آپریشن شروع کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، سابق سیکرٹری فاٹا اور تجزیہ نگار محمود شاہ کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات اس کارروائی کے لیے ساز گار نہیں ہیں۔

وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں انھوں نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن دوسرے علاقوں کی نسبت زیادہ دشوار اور پیچیدہ ہو سکتا ہے جس سے ان کے بقول ملکی سکیورٹی فورسز کی صلاحیتوں پر دباؤ بڑھے گا جو پہلے ہی مختلف محاذوں پر عسکریت پسندوں کے خلاف لڑرہی ہیں۔
سابق سیکریٹری فاٹا کے مطابق بہتر یہ ہوگا کہ اگر پاکستانی سکیورٹی فورسز جنوبی وزیرستان سمیت دیگر علاقوں میں جاری اپنی کارروائیوں کو کامیابی کے ساتھ مکمل کر لے اور اس کے بعد ہی شمالی وزیرستان میں جنگجوؤں کے خلاف نیا محاذ کھولے۔

حکمران پیپلز پارٹی کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹر طاہر مشہدی نے امریکی سینیٹروں کی طرف سے شمالی وزیرستان میں آپریشن کا امکان منظر عام پر لائے جانے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کے بقول نہ صرف پاکستان کی خود مختاری بلکہ عالمی سفارتی روایات کی بھی خلاف ورزی ہے۔

امریکی سینیٹروں کے بیان سے قطع نظر متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹر کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کی جماعت شمالی وزیرستان سمیت ہر اس علاقے میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کی حمایت کرتی ہے جو پاکستان کے امن واستحکام میں خلل ڈال رہے ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی کارروائی کے کیے جانے کے وقت کا تعین کرنا اور پیشہ وارانہ تیاریوں کے حوالے سے حکمت عملی وضع کرنا پاکستانی حکومت اور فوج کا کام ہے۔

انھوں نے اس بات پر بھی شکایت کی کہ امریکی سینیٹروں نے پاکستان کے دورے کے دوران قیادت سے تو ملاقات کی لیکن عوامی نمائندگان سے مل کر دہشت گردی سمیت دوسرے معاملات پر نہ تو مشاورت کی اور نہ ہی ان کا موٴقف جاننے کی کوشش کی۔طاہر مشہدی نے کہا کہ امریکی سینیٹروں کا پاکستان آکر ملکی حالات اور مسائل سے آگاہی حاصل کرنا یقینا خوش آئند ہے لیکن اس سلسلے میں یہ بھی ضروری ہے کہ وہ پاکستانی پارلیمان کے ارکان کے ساتھ رابطہ رکھیں۔

XS
SM
MD
LG