رسائی کے لنکس

پاک امریکہ سٹرٹیجک مذاکرات سے توقعات


پاک امریکہ سٹرٹیجک مذاکرات سے توقعات

پاک امریکہ سٹرٹیجک مذاکرات سے توقعات

پاکستان اور امریکہ کے درمیان واشنگٹن میں جاری اسٹرٹیجک ڈائیلاگ کے چھٹے دور کے پہلے روز آج دونوں ممالک کے وفود کے درمیان عسکری امور کے ساتھ ساتھ تعلیم، زراعت، توانائی اور پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد سمیت دیگر امور پر بات چیت کی جارہی ہے۔ اسٹرٹیجک ڈائیلاگ ان دو اہم اتحادیوں کے درمیان اتار چڑھاؤ پر تعلقات میں بہت اہمیت رکھتے ہیں۔

پاکستان اور امریکہ کے درمیان یہ اسٹرٹیجک ڈائیلاگ ایک ایسے وقت میں ہورہے ہیں جب پاکستان کو اپنی تاریخ کے بد ترین سیلاب سے نمٹنے کے لیے اپنے وسائل بروئے کار لانے کے ساتھ ساتھ اسے بیرونی مدد خصوصاً امریکی امداد کی بھی ضرورت ہے۔ لیکن دوسری جانب تواتر کے ساتھ ہونے والے ڈرون حملوں کی وجہ سے پاکستانی عوام میں امریکہ مخالف جذبات اپنے عروج پر ہیں۔ جبکہ امریکی میڈیا میں پاکستان کو اس حوالے سے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے کہ وہ شمالی وزیرِ ستان میں ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہیں کررہی جن سے امریکی مفادات کو براہِ راست خطرہ ہے۔ انہیں وجوہات کی بنا پر بعض مبصرین موجودہ ڈائیلاگ کے حوالے سے پرامید دکھائی نہیں دیتے۔

لیکن واشنگٹن میں قائم ایک تھنک ٹینک مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ میں پاکستانی امور کے ماہر مارون وائن بام اس خیال سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کا کہنا ہے کہ ڈائیلاگ کا جاری رہنا ہی ایک مثبت پیش رفت ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ان ڈائیلاگ کے ذریعے امریکہ کی جانب سے یہ پیغام دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ پاک امریکہ تعلقات محض سیکیورٹی کے امور تک ہی محدود نہیں ہیں۔ اسی لیے توانائی، تجارت، زراعت، پانی اور ایسے دیگر شعبوں پر بات کو اہمیت دی جارہی ہے جن کا تعلق براہِ راست عوام سے ہے۔ اور ظاہر ہے کہ موجودہ سیلاب کی وجہ سے پاکستان جن حالات کا شکار ہے، ان پر بھی اسے امریکہ کی مدد کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے بھی ان مزاکرات میں بات کی جارہی ہے۔

بیشتر مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے اور کسی بھی ڈائیلاگ کو بامعنی بنانے کے لیے اعتماد کی بحالی بہت ضروری ہے۔ لیکن امریکہ کی بوسٹن یونیورسٹی میں انٹرنیشنل ریلیشنز کے ایک پروفیسرعادل نجم کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اب دونوں فریقین اپنے تحفظات کا اظہار کھل کر کرتے ہیں۔

اگرچہ یہ ڈائیلاگ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کا ایک حصہ ہیں اوران کا مقصد فوری طور پر کسی مقصد کا حصول یا مسئلے کا ڈھونڈنا نہیں ہے، لیکن ان سے کسی مثبت نتیجے کی توقع ایک فطری عمل ہے۔ اور مارون وائن بام اس حوالے سے پرامید ہیں۔

پروفیسر مارون وائن بام کہتے ہیں کہ اگر دونوں فریقین اس حوالے سے پراعتماد ہوں گے کہ ڈائیلاگ کے اختتام پر وہ کوئی مثبت اعلان کرپائیں گے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو ڈائیلاگ کا اہتما م بھی نہ کیاجاتا۔ میرے خیال میں ان مذاکرات کومثبت اور موثر اسی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے جب ان کے اختتام پر ایسے پروجیکٹس کا اعلان کیا جائے جو براہِ راست عوام کی فلاح کے لیے ہوں۔

XS
SM
MD
LG