رسائی کے لنکس

باجوڑ میں عالمی ادارہ خوراک کے امدادی مراکز بند

  • یاسر منصوری

باجوڑ میں عالمی ادارہ خوراک کے امدادی مراکز بند

باجوڑ میں عالمی ادارہ خوراک کے امدادی مراکز بند

باجوڑ میں عالمی ادارہ خوراک کے امدادی مراکز بند

باجوڑ میں عالمی ادارہ خوراک کے امدادی مراکز بند

خوراک کے عالمی ادارے ڈبلیو، ایف پی، نے باجوڑ کے مرکزی شہر خار میں ایک روز قبل ہونے والے خودکش بم دھماکے کے بعد علاقے میں اپنے امدادی مراکز عارضی طور پر بند کردیے ہیں۔

تنظیم کے پاکستان میں ایک ترجمان امجد جمال نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ علاقے میں کام کرنے والے چار فوڈ راشن سینٹرزاُن ہزاروں خاندانوں کو خوراک کا سامان فراہم کر رہے تھے جو عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعدباجوڑ میں اپنا گھربار چھوڑ کر دوسرے علاقوں کو منتقل ہوگئے تھے اور اب واپس آکر دوبارہ معمول کی زندگی شروع کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ خودکش حملے کے بعد حکام نے علاقے میں کرفیو لگا رکھا ہے اس لیے ڈبلیو ایف پی کے پاس اپنی امدادی سرگرمیاں معطل کرنے کے سوا کوئی دوسرا چارہ نہیں تھا۔”فی الحال یہ واضح نہیں کہ یہ مراکز کب تک بند رکھے جائیں گے لیکن جیسے ہی صورت حال معمول پر آتی ہے انھیں فورا کھول دیا جائے گا۔ “

تنظیم کے پاکستان میں ایک ترجمان امجد جمال

تنظیم کے پاکستان میں ایک ترجمان امجد جمال

امجد جمال نے کہا کہ اس وقت 30 ہزار سے زائد خاندان گھروں کو واپس آچکے ہیں جن میں عالمی تنظیم کے فوڈ راشن مراکز سے ہر ماہ آٹا، چینی، دالیں، خوردنی تیل، بسکٹ اور بچوں کی خوراک تقسیم کی جارہی تھی۔

باجوڑ میں پاکستانی حکام اور عینی شاہدین کے مطابق ایک برقع پوش خودکش بمبار نے ہفتہ کی صبح ڈبلیو ایف پی کے خار میں ایک امدادی مرکز پر اُس وقت حملہ کردیا جب وہاں سینکڑوں افراد راشن کارڈ کے حصول کے لیے قطار بنائے کھڑے تھے۔ بم دھماکے میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں سمیت کم از کم 43 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔

ہلاک ہوانے والوں میں بیشتر کا تعلق باجوڑ کے سلارزئی قبائل سے بتایا جاتا ہے جنھوں نے 2008ء میں علاقے میں فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد طالبان جنگجوؤں کے خلاف لشکر تشکیل دیا تھا۔

XS
SM
MD
LG