رسائی کے لنکس

صدر زرداری برطانیہ کا دورہ ملتوی کردیں


صدر زرداری برطانیہ کا دورہ ملتوی کردیں

صدر زرداری برطانیہ کا دورہ ملتوی کردیں

برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے بھارت کے حالیہ دورے کے موقع پر صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیوں کے ایسے عسکریت پسندوں کے ساتھ روابط ہیں جو بین الاقوامی دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان پر دہشت گردی کو برآمد کرنے کا الزام لگا کر برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے پوری پاکستانی قوم کی ”خوداری اور جذبات کو مجروح“ کیا ہے۔

اتوار کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ صدر زرداری کو برطانیہ کا دورہ ملتوی کردینا چاہیئے اورانھیں کسی قیمت پر برطانوی وزیر اعظم کے ساتھ لندن جا کرملاقات نہیں کرنی چاہیئے۔‘‘ میں سمجھتا ہوں کے یہ نامناسب ہوگا اور پاکستانی عوام کے جذبات کی توہین ہے۔ ’’

نواز شریف نے کہا کہ برطانوی وزیر اعظم کواس طرح کی الزام تراشی سے پہلے یہ سوچنا چاہیئے تھا کہ پاکستان کے عوام اور فوج قربانی دے رہے ہیں۔” کتنے افسوس کی بات ہے۔ پاکستان میں ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں ۔ یہ انعام دیا جارہا ہے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف مہم یا جنگ کا؟“

ایک روز قبل پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف نے بھی صدر زرداری پر زور دیا تھا کہ وہ ملک میں بڑے پیمانے پر سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں کے پیش ِنظر برطانیہ کا دورہ ملتوی کرکے اُس پر اٹھنے والے اخراجا ت کی رقم کو سیلاب زدگان کی بحالی پر خرچ کریں۔

صدر زرداری برطانیہ کا دورہ ملتوی کردیں

صدر زرداری برطانیہ کا دورہ ملتوی کردیں

تاہم حکمران پیپلز پارٹی کے ایک مرکزی رہنما اور وفاقی وزیر قانون بابر اعوان نے کہا ہے کہ خارجہ پالیسی کے فروغ اور پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیوں کے بارے میں بیرونی دنیا میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے پاکستانی قیادت کی عالمی رہنماؤں سے براہ راست بات چیت ناگزیر ہے۔

اتوار کو صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے انھوں نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ”تختِ لاہور سے ایسے بیانات جاری کرنے والوں کو چاہیئے کہ وہ سیلاب زدگان سے ملنے کے لیے ہیلی کاپٹر کے اپنے دوروں کو ترک کریں جومحض میڈیا کو تصویر بنانے کا موقع فراہم کرنے کے لیے کیے جارہے ہیں۔“

برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے بھارت کے حالیہ دورے کے موقع پر صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیوں کے ایسے عسکریت پسندوں کے ساتھ روابط ہیں جو بین الاقوامی دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

اُن کے اس بیان پر احتجاجاََ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے اعلیٰ سطحی وفد نے پیر سے شروع ہونے والا لندن کا اپنا دورہ منسوخ کردیا ہے۔ یہ وفد آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل احمد شحاع پاشا کی قیادت میں برطانوی حکام کے ساتھ انسداد دہشت گردی میں تعاون پر بات چیت کے لیے جارہا تھا۔

پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی برطانوی وزیر اعظم کے بیان پر تنقید کی ہے اور کہا کہ ایسے بیانات دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے نقصان دہ ہیں۔

وزارت خارجہ کے ترجمان عبد الباسط نے اعتراف کیا ہے کہ ڈیوڈ کیمرون کے بیان پر دو طرفہ سفارتی تعلقات میں کشید گی آئی ہے لیکن اُن کے بقول اس سے تعلقات کے متاثر ہونے یا پھر صدر زرداری کے دورہ برطانیہ متاثر نہیں ہوگا۔

صدرزرداری کا پانچ روزہ دورہ برطانیہ پاکستانی میڈیا میں بھی مسلسل موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ اخبارات کی تحریروں کے بقول پاکستانی صدرکے اس دورے کو سرکاری رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہیں لیکن مجموعی لحاظ سے یہ ایک نجی اور سیاسی دورہ ہے جس میں وہ اپنے بیٹے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری کو باقاعدہ طور پر سیاسی منظر نامے پر متعارف کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اخبارات کے مطابق اس دورے پر حکومتی خزانے سے ایک خطیر رقم خرچ ہو گی اور یہ اخراجات ایک ایسے وقت کیے جا رہے ہیں جب ملک بھر میں شدید بارشوں کے باعث بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور سینکڑوں لوگ ہلاک جب کہ لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔

مقامی اخبارات کے مطابق پاکستانی صدر اور ان کا وفد لندن کے مشہور ہوٹل حیات ریجنسی میں قیام کرے گا اور اس سلسلے میں عمارت کی ایک مخصوص منزل کا تقریباً نصف حصہ حاصل کیا گیا ہے۔

صدر زرداری، جن کی حکومت کو انتظامی امور میں ناکامی، مہنگائی، تونائی کے بحران اور بے ربط سیاسی حکمت عملی کے سلسلے میں شدید تنقید کا سامنا ہے، ماضی میں بھی مبینہ بدعنوانیوں کی وجہ سے مشکلات کا شکار رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG