رسائی کے لنکس

پاک افغان تجارتی راہداری سمجھوتا: امریکہ کا خیر مقدم


پاک افغان تجارتی راہداری سمجھوتا: امریکہ کا خیر مقدم

پاک افغان تجارتی راہداری سمجھوتا: امریکہ کا خیر مقدم

یہ اقدام ترقی، خوشحالی اور امن کے لیے دونوں صدور کی یکساں سوچ کی پختہ غمازی کرتا ہے، اور یہ معاہدہ خطے کے استحکام کی جانب ایک نمایاں کاوش ثابت ہوگا: ترجمان محکمہٴ خارجہ

امریکہ نے افغان صدر حامد کرزئی اور پاکستانی صدر آصف علی زرداری کے12جون کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے جس میں پاک افغان تجارتی راہداری کےسمجھوتے پرمکمل عمل درآمد کا اعادہ کیا گیا ہے۔

یہ بات امریکی محکمہٴ خارجہ کے نائب ترجمان مارک ٹونر نےپیر کے روز اپنے ایک بیان میں کہی ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام ترقی، خوشحالی اور امن کے لیے دونوں صدور کی یکساں سوچ کی پختہ غمازی کرتا ہے، اور یہ معاہدہ خطے کے استحکام کی جانب ایک نمایاں کاوش ثابت ہوگا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ راہداری سے متعلق یہ دوطرفہ معاہدہ برسوں کی کو ششوں کا ثمر ہے، جو کہ 1965ء میں کیے گئے فرسودہ سمجھوتے کی جگہ لے گا۔

ترجمان نے اِسے ایک’ نمایاں پیش رفت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اِس سے دونوں ملکوں کے درمیان استوار مضبوط معاشی اور سیاسی تعاون کا مظاہرہ ہوتا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سمجھوتے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے دونوں ممالک نے تکنیکی اور سیاسی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیےبڑھتے ہوئے عزم کے ساتھ مل کر کام کرنے کامظاہرہ کیا۔

ترجمان نے کہا کہ سمجھوتے پر مکمل عمل درآمد کے ذریعے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فروغ ملے گا، جب کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ما ل برداری پر اٹھنے والے اخراجات اور تاخیر میں کمی واقع ہو گی، اور یہ خطے میں ایک مثال کی سی حیثیت حاصل کرلے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سمجھوتے کے باعث دونوں ملکوں کو عالمی منڈی تک رسائی کی سہولیات میں مدد ملے گی اور افغانستان کی برآمدات کی مسابقتی صورت حال فروغ پائے گی، اور یہ کہ اس سے سرحدوں کے مابین ہونے والی اسمگلنگ میں کمی آئے گی، جائز تجارت پر مبنی حکومتی آمدنی بڑھے گی، اور بڑھتی ہوئی تجارت میں مدد دینے کے لیےمتعلقہ اعانتی خدمات میں اضافہ ہوگا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں نے بات چیت کے ذریعے وسطی ایشیا کے ملکوں تک معاہدے کا دارہٴ کار بڑھانے پر پہلے ہی اپنی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

اِس میں کہا گیا ہے کہ علاقائی تعاون اور خوشحالی کے فروغ کےلیے امریکہ اور دیگر اتحادی معاہدے کی اہمیت کی حمایت کرتے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ، ہم سمجھتے ہیں کہ تجارتی راہداری کے اِس معاہدے کے ساتھ ساتھ دیگر سمجھوتوں اور ٹھوس منصوبوں کی بدولت الماتی سے بحیرہ ہند تک تجارت میں رابطہ بڑھے گا، سرمایہ کاری، اشیا کی مال برداری، خیالات اور لوگوں کےحمل و نقل میں مدد ملے گی۔

XS
SM
MD
LG