رسائی کے لنکس

بینچ کا کہنا تھا کہ اس پرندے کا شکار قانون کے مطابق غلط ہے اور پاکستان آنے والے تمام غیر ملکی مہمانوں بھی اس ملک کے آئین و قانون کا خیال رکھنے کے پابند ہیں۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے معدوم ہوتی نسل کے پرندے تلور کے شکار پر پابندی عائد کرتے ہوئے وزارت خارجہ کو غیر ملکی رؤسا کو اس کے شکار کے اجازت نامے جاری کرنے سے روک دیا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر تلور کا شمار ان پرندوں میں ہوتا ہے جن کی نسل تیزی سے ختم ہوتی جارہی اور اسی بنا پر اس کا شکار ممنوع ہے۔

ایک اندازے کے مطابق ہر سال تقریباً پانچ سے سات ہزار تلور سائبیریا سے پاکستان کا رخ کرتے ہیں اور یہاں ستمبر کے اوائل سے فروری تک عارضی بسیرا کر کے اپنے آبائی مسکن کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔

اس پرندے کا شکار کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، کویت اور قطر کے شاہی مہمانوں کے علاوہ اہم شخصیات پاکستان کا رخ کرتی رہی ہیں جنہیں وزارت خارجہ پرندوں کی ایک مخصوص تعداد تک شکار کرنے کا خصوصی اجازت نامہ جاری کرتی ہے۔

اس پرندے کے شکار کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی جس کی سماعت چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی اور بدھ کو اپنا فیصلہ سنایا۔

درخواست گزار کے وکیل راجہ محمد فاروق نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد وفاقی حکومت شکار کے اجازت نامے جاری کرنے کی مجاز نہیں لیکن اس باوجود یہ اجازت نامے جاری کیے جاتے رہے جو کہ غیر قانونی ہیں اور اس پرندے کے شکار کی بین الاقوامی سطح پر ممانعت کے ضمن میں بھی یہ درخواست دائر کی گئی۔

"یہ پرندہ 16 ملکوں میں داخل ہوتا ہے اور تمام میں اس کے شکار پر پابندی ہے، بھارت میں بھی اس کا شکار ممنوع ہے اور بون کنونشن میں بھی اس پرندے کی نسل معدوم ہونے کے پیش نظر اس کا شکار منع کیا گیا اور پاکستان بھی اس میثاق پر دستخط کر چکا ہے۔ تو عدالت نے ہماری درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے اپنے احکامات میں ان اجازت ناموں کو غیر قانونی قرار دے کر اس پرندے کے شکار پر پابندی عائد کی ہے۔"

راجہ فاروق نے بتایا کہ صوبہ خیبر پختونخواہ کی حکومت اس پرندے کے شکار پر پہلے ہی پابندی لگا چکی ہے جب کہ دیگر صوبوں میں غیر ملکی مہمانوں کے لیے اس شکار کے لیے علاقے مخصوص کیے گئے۔

سماعت کے دوران بینچ کا کہنا تھا کہ اس پرندے کا شکار قانون کے مطابق غلط ہے اور پاکستان آنے والے تمام غیر ملکی مہمانوں بھی اس ملک کے آئین و قانون کا خیال رکھنے کے پابند ہیں۔

XS
SM
MD
LG