رسائی کے لنکس

پاک افغان مذاکرات: دہشتگردوں کے خلاف ’بلا تفریق‘ اقدامات پر اتفاق


افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر رنگین دادفر اسپانتا (فائل فوٹو)

افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر رنگین دادفر اسپانتا (فائل فوٹو)

اجلاس کے بعد جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ’’دونوں فریق اس بات پر متفق ہوئے کہ دہشت گردی ایک مشترکہ دشمن ہے۔

افغان اور پاکستانی حکام میں دہشتگردوں اور اپنے اپنے علاقوں میں پائی جانے والی شدت پسندوں کی کمین گاہوں کے خلاف ’’بغیر کسی تفریق‘‘ کے اقدامات کرنے کی ضرورت پر اتفاق ہوگیا ہے۔

یہ پیش رفت افغان قومی سلامتی کے مشیر رنگین دادفر اسپانتا اور ان کے پاکستانی ہم منصب سرتاج عزیز کی سربراہی میں جمعرات کو اسلام آباد میں ہونے والے ایک روزہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں ہوئی جس میں پاکستانی عہدیداروں کے مطابق دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان عسکریت پسندی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی کے تحت اقدامات زیر غور آئے۔

اجلاس کے بعد جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ’’دونوں اطراف اس بات پر متفق ہیں کہ دہشت گردی ایک مشترکہ دشمن ہے اور اس لعنت کے خاتمے کے لیے اداروں کی سطح پر قریبی تعاون و روابط ہونے چاہئیں۔‘‘

اس حوالے سے دونوں طرف کے حکام ایک جوائنٹ ورکنگ گروپ بنانے پر بھی رضا مند ہوگئے جس کے سربراہ وزرائے خارجہ یا ان کے نائب جبکہ اراکین متعلقہ خفیہ اداروں کے نمائندے ہوں گے۔

مسٹر اسپانتا، سرتاج عزیر مذاکرات میں وزرات خارجہ و دفاع کے علاوہ دنوں ملکوں کی انٹیلی جنس اداروں کے سینئیر عہدیداروں نے بھی شرکت کی۔

پاکستان کی وزرات خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کے مطابق اس ملاقات کا مقصد ان طریقوں پر تبادلہ خیال کرنا تھا جن کے ذریعے سیکورٹی سے وابستہ حکام میں روابط کو مستحکم بناتے ہوئے باہمی سلامتی کے امور پر تعاون کو مزید بڑھانا ہے۔

افغان وفد کا دورہ ایک ایسے وقت میں ہورہا ہے جب پاکستانی افواج نے رواں ماہ ہی افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے وزیرستان میں القاعدہ سے منسلک جنگجوؤں کے خلاف آپریشن شروع کیا اور کابل سے تعاون کی بھی ’’درخواست‘‘ کی ہے۔

صحافیوں سے ہفتہ وار بریفنگ میں وزرات خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ انسداد دہشت گردی کی یہ کوششیں نا صرف پاکستان بلکہ افغانستان کی سلامتی اور وہاں قیام امن کے لیے بھی فائدہ مند ہوں گی۔

’’اس فوجی کارروائی کا مقصد علاقے سے دہشت گردی کی بیخ کنی ہے تو ہم افغانستان سے امید کرتے ہیں کہ وہ سرحد پر اقدامات کریں گے تاکہ دہشت گرد افغان علاقوں میں پناہ نا لے سکیں۔‘‘

عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں افغانستان سے تعاون حاصل کرنے کی غرض سے وزیراعظم نواز شریف نے حال ہی میں اپنے خصوصی ایلچی محمود خان اچکزئی کو صدر حامد کرزئی سے ملاقات کے لیے کابل بھیجا تھا۔

رواں سال کے اواخر میں غیر ملکی افواج کے افغانستان سے انخلا کے تناظر میں ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے ساتھ ساتھ خطے کی سلامتی کے لیے کابل اور اسلام آباد میں تعاون ناگزیر ہو چکا ہے۔

پاکستان کے قومی سلامتی کے سابق مشیر ریٹائیرڈ میجر جنرل محمود علی درانی کا وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہنا تھا کہ دونوں ہمسایہ ملکوں میں تعاون ’’ان کے لئے زندگی اور موت‘‘ کا مسئلہ ہے۔

’’پاکستانی اور افغان طالبان میں تعاون بہت زبردست ہے۔ اس کا پاکستان و افغان ریاستوں کو نقصان ہوا۔ اگر افغانستان میں طالبان حکومت آجاتی ہے ملا عمر والی تو اس کے 100 فیصد اثرات پاکستان پر ہوں گے۔ یہاں طالبان کو تقویت ملے گی۔ اگر ہم نے کچھ نا کیا اور جاگے نہیں تو بہت دکھ ہوا۔‘‘

مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں پائی جانے والی بد اعتمادی میں کمی کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ملکوں میں مختلف اہم اداروں کی سطح پر زیادہ سے زیادہ ملاقاتیں ہوں اور دونوں اطراف سے تحفظات و خدشات کو واضح انداز میں بیان کیا جائے۔

XS
SM
MD
LG