رسائی کے لنکس

ویلیو ایڈڈ ٹیکس پر تنقید اور حکومت کا دفاع

  • حسن سید

ویلیو ایڈڈ ٹیکس پر تنقید اور حکومت کا دفاع

ویلیو ایڈڈ ٹیکس پر تنقید اور حکومت کا دفاع

رفعت شاہین قاضی فیڈرل بورڈ آف ریونیوکی ایک سینئر عہدے دار ہیں جنھوں نے وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں وَیٹ کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ٹیکس میں اضافہ کرنا نہیں بلکہ ٹیکس کے نیٹ ورک کو وسیع کرنا ہے ۔

ویلیو ایڈڈ ٹیکس یعنی (VAT) پر اپوزیشن رہنماؤں اور غیر جانبدار ماہرین کی تمام تر تنقید کے باوجود وفاقی حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ ٹیکس عوام پر کوئی بوجھ نہیں ڈالے گا۔

اس ٹیکس کو اگرچہ ابھی قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے منظوری حاصل کرنا ہے لیکن مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ یکم جولائی سے وَیٹ کا نفاذ کرنا ناگزیر ہے جب کہ بجلی کے نرخوں میں بھی چھ فیصد اضافہ کیا جارہا ہے جس کا اطلاق یکم اپریل سے ہو گا۔

یہ دونوں اقدام عالمی مالیاتی ادارے یعنی آئی ایم ایف کے ساتھ 2008ء میں 11.3ارب ڈالر کے قرضے کے حصول کے لیے طے پانے والے معاہدے کی شرط تھی۔

معاہدے کے تحت عالمی ادارے نے گذشتہ ہفتے پاکستان کے لیے 1.13ارب ڈالر قرض کی قسط منظور کی ہے۔

سابق وزیر خزانہ اور اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) کے ایک رہنما اسحاق ڈار وَیٹ کے مخالف ہیں کیونکہ ان کے مطابق یہ ایک ایسا حساس معاملہ ہے جس پر ملک کی ٹیکس مشینری بغیر تیاری کے عجلت میں عمل درآمد کرنے جارہی ہے۔ا ن کا کہنا ہے کہ وَیٹ کے نفاذ سے یقینا افراط زر میں اضافہ ہو گا اور غریب طبقے پر بوجھ پڑ ے گا۔

سابق وزیر خزا نہ کی رائے میں جس جنرل سیلز ٹیکس کو ہٹا کر وَیٹ متعارف کرایا جا رہا ہے اگر اس پر نظر ثانی کرکے اسی کو مزید موٴثر بنا دیا جاتا تو نہایت مثبت نتائج حاصل ہو سکتے تھے۔

رفعت شاہین قاضی فیڈرل بورڈ آف ریونیوکی ایک سینئر عہدے دار ہیں جنھوں نے وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں وَیٹ کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ٹیکس میں اضافہ کرنا نہیں بلکہ ٹیکس کے نیٹ ورک کو وسیع کرنا ہے ۔

انھوں نے بتایا کہ وَیٹ کو جنرل سیلز ٹیکس کی جگہ پر نافذ کیا جارہا ہے جس کی کم از کم شرح 16فیصد ہے جب کہ وَیٹ کی شرح 15فیصد ہو گی اور یوں ان کے مطابق عوام کو ایک فیصد ریلیف دیا جار ہا ہے۔

لیکن عبداللہ یوسف جو ایف بی آر کے سابق چیئرمین ہیں کہتے ہیں کہ وَیٹ سے افراط زر میں اضافہ بہر حال نا گزیر ہے۔

ان کے مطابق وَیٹ کے تحت وفاق اور صوبوں خاص طور پر صوبہ سندھ کے درمیان موجودہ اختلافات ایک اور بڑا چیلنج ہے جو اگر حل نہ ہو سکا تو اس قانون کا نفاذ خطرے میں پڑ سکتا ہے ۔

سرکاری عہدے داروں کے مطابق وَیٹ کے نفاذ کا مقصد مالی خسارے کو کم کرنا اور ٹیکس ۔جی ڈی پی کے تناسب کو بڑھانا ہے جو اس وقت صرف 8.8فیصد ہے۔

XS
SM
MD
LG