رسائی کے لنکس

طالبان مخالف کمانڈر کی حکومت سے تعاون ختم کرنے کی دھمکی

  • شمیم شاہد
  • یاسر منصوری

طالبان مخالف کمانڈر کی حکومت سے تعاون ختم کرنے کی دھمکی

طالبان مخالف کمانڈر کی حکومت سے تعاون ختم کرنے کی دھمکی

دلاور خان نے بتایا ہے کہ لشکر نے حکومت سے روزمرہ کی ضروریات کے علاوہ ہتھیاروں، گولہ بارود اور گاڑیوں کا مطالبہ کر رکھا ہے تاہم کئی مرتبہ کرائی گئی یقین دہانیوں کے باوجود پاکستانی حکام نے یہ وسائل فراہم نہیں کیے ہیں جس کی وجہ سے طالبان اُن کے ساتھیوں کو تواتر سے ہدف بنا کر ہلاک کر رہے ہیں۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختون خواہ میں ایک اہم طالبان مخالف لشکر نے حکومت سے مطلوبہ وسائل نا ملنے کی شکایت کرتے ہوئے اپنا تعاون ختم کرنے کی دھمکی دی ہے۔

صوبائی دارالحکومت پشاور کے نواحی علاقے متنی میں شدت پسندوں کے خلاف سرگرم لشکر کے سربراہ دلاور خان نے جمعرات کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت نے بار بار وعدوں کے باوجود لشکر کی ضروریات اور اس کی استعداد بڑھانے کے لیے وسائل فراہم نہیں کیے جس کی وجہ سے وہ انتظامیہ کے ساتھ لشکر کے تعاون کی پالیسی پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

طالبان مخالف کمانڈر کی حکومت سے تعاون ختم کرنے کی دھمکی

طالبان مخالف کمانڈر کی حکومت سے تعاون ختم کرنے کی دھمکی

طالبان مخالف اس کمانڈر نے یہ انتباہ بدھ کو لشکر کے ایک سرکردہ رکن کی اہلیہ کے جنازے پر کیے گئے خودکش بم حملے کے بعد جاری کیا ہے۔ اس واقعہ میں کم از کم 36 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے جن میں اکثریت کا تعلق ’قومی امن لشکر‘ سے تھا۔

دلاور خان کا کہنا تھا کہ لشکر کے عمائدین تین روزہ سوگ کے بعد ایک اجلاس میں حکومت کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کا حتمی فیصلہ کریں گے۔ ”پشاور کے خلاف شدت پسندوں کے حملوں کے سامنے ہمارا لشکر ڈھال کا کردار ادا کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود یہ حکومت کی عدم توجہی کا شکار ہے۔“

اُنھوں نے بتایا کہ لشکر نے حکومت سے روزمرہ کی ضروریات کے علاوہ ہتھیاروں، گولہ بارود اور گاڑیوں کا مطالبہ کر رکھا ہے تاہم کئی مرتبہ کرائی گئی یقین دہانیوں کے باوجود پاکستانی حکام نے یہ وسائل فراہم نہیں کیے ہیں جس کی وجہ سے طالبان اُن کے ساتھیوں کو تواتر سے ہدف بنا کر ہلاک کر رہے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے پشاور شہر کی پولیس کے سربراہ لیاقت علی خان نے طالبان مخالمف کمانڈر کے الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ قومی امن لشکر کے ساتھ ہر ممکن تعاون کر رہی ہے اور عسکریت پسندوں کی طرف سے متنی اور ارد گرد کے دیہاتوں میں کارروائیوں کی وجہ اس علاقے کا جغرافیائی محلِ وقوع ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ تین قبائلی علاقوں کو جانے والے راستے متنی سے گزرتے ہیں اور ارد گرد پہاڑی علاقوں کی موجودگی میں عسکریت پسندوں کی نقل و حمل کو مکمل طور پر روکنا ایک مشکل کام ہے۔

ضلعی رابطہ افسر سراج احمد خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقامی لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے حساس مقامات پر پولیس چوکیاں قائم کی گئی ہیں لیکن اُن کا بھی یہ ماننا ہے کہ یہ ایک وسیع اور مشکل علاقہ ہے اس لیے شدت پسندوں کی کارروائیوں کی مکمل روک تھام ممکن نہیں۔

تاہم صوبائی عہدے داروں نے اعتراف کیا ہے کہ قومی امن لشکر اور اس جیسے دوسرے طالبان مخالف مسلح گروہوں نے شدت پسندوں کے خلاف موثر کارروائیاں کی ہیں جس نے حکومت کی انسداد دہشت گردی کی مہم کو تقویت بخشی ہے۔

حکومت افغان سرحد سے ملحقہ علاقوں میں مقامی امن لشکروں کی تشکیل کی حوصلہ افزائی کرتی ہے تاہم انسانی حقوق کی غیر سرکاری تنظیمیں اس اقدام کی مخالفت کرتی آئی ہیں کیوں کہ اُن کے بقول یہ شہریوں کو لڑائی میں شامل کرنے اور ریاستی اختیار اُن کے حوالے کرنے کے مترادف ہے۔

XS
SM
MD
LG