رسائی کے لنکس

فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اپنے دلائل میں اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے موقف اختیار کیا کہ قانون سازی کا اختیار عوامی نمائندوں کے پاس ہے ناکہ عدالت عظمیٰ کے پاس۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے آئین میں اٹھارویں اور اکیسویں ترامیم کے علاوہ فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

جمعہ کو چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں قائم 17 رکنی بینچ کے سامنے اٹارنی جنرل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا اور تاحال یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ فیصلہ کب جاری کیا جائے گا۔

اپنے دلائل میں اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے موقف اختیار کیا کہ قانون سازی کا اختیار عوامی نمائندوں کے پاس ہے ناکہ عدالت عظمیٰ کے پاس۔

ان کے بقول پارلیمنٹ عوام کا نمائندہ فورم ہے جو ملک و قوم کے مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے قانون سازی کرتا ہے۔

بینچ میں شامل جج جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں جمہوریت کا تسلسل نہیں رہا اور مارشل لا کے نفاذ سے ملکی جمہوریت متاثر ہوئی۔ ان کے بقول سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں ایسے قوانین بنائے گئے جو ان کے اقتدار کو طول دے سکیں۔

اٹارنی جنرل کے دلائل مکمل ہونے پر اسلام آباد اور چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز نے بھی ان سے اتفاق کیا جس کے بعد بینچ نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

عدالت عظمیٰ میں آئین میں اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت ججوں کی تقرری کے طریقہ کار اور 21 ترمیم میں دہشت گردی کے مقدمات سے نمٹنے کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف ڈیڑھ درجن سے زائد درخواستیں دائر کی گئی تھیں جنہیں یکجا کر کے لارجر بینچ نے ان کی سماعت شروع کی۔

رواں سال جنوری میں پارلیمان نے آئین میں 21 ترمیم اور فوجی ایکٹ میں ترمیم کر کے دو سال کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام کو قانونی تحفظ فراہم کیا تھا۔ اس کے بعد ابتدائی طور پر نو فوجی عدالتیں قائم ہوئیں جن سے دہشت گردی کے مقدمات میں پانچ مجرموں کو سزائے موت اور ایک کو عمر قید کی سزائیں سنائی گئیں۔

سینیئر وکیل عاصمہ جہانگیر نے ایک درخواست کے ذریعے عدالت عظمیٰ سے استدعا کی تھی کہ جب تک ان عدالتوں کے قیام سے متعلق فیصلہ نہیں آجاتا ان سزاؤں پر عملدرآمد روک دیا جائے جس کے بعد سپریم کورٹ نے ان مجرموں کو ملنے والی سزاؤں کو معطل کر دیا تھا۔

ملک کی بڑی وکلا تنظیموں کا موقف ہے پاکستان میں ایک عدالتی نظام کے ہوتے ہوئے فوجی عدالتوں میں دہشت گردی کے مقدمات بھیجنا مناسب اقدام نہیں۔

تاہم حکومتی عہدیدار یہ کہتے آئے ہیں کہ فوجی عدالتوں کے ذریعے دہشت گردی کے مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے یہ عدالتیں قائم کی گئیں جب کہ یہ اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہے کہ وہ مکمل چھان بین کے بعد مقدمات ان عدالتوں میں بھیجے اور ان مجرموں کو قانون کے مطابق اپنی صفائی کا پورا موقع بھی فراہم کیا جائے گا۔

پاکستان میں فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ گزشتہ دسمبر پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد کیا گیا تھا۔ اس واقعے میں 134 بچوں سمیت 150 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور اسے ملکی تاریخ کا بدترین دہشت گرد واقعہ قرار دیا جاتا ہے۔

XS
SM
MD
LG