رسائی کے لنکس

خیبر ایجنسی: فضائی کارروائی میں 20 'دہشت گرد' ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

جیٹ طیاروں سے کی گئی بمباری میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کے علاوہ ان کے زیر استعمال اسلحہ اور خوراک کے ذخیروں کو بھی تباہ کر دیا گیا۔

پاکستان کی فوج نے بتایا ہے کہ افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں تازہ فضائی کارروائی میں کم ازکم 20 مشتبہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

جمعرات کو وادی تیراہ میں کی گئی ان فضائی کارروائیوں میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور بتایا جاتا ہے کہ مرنے والوں میں تین خودکش بمبار بھی شامل ہیں۔

جیٹ طیاروں سے کی گئی بمباری میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کے علاوہ ان کے زیر استعمال اسلحہ اور خوراک کے ذخیروں کو بھی تباہ کر دیا گیا۔

جس علاقے میں یہ کارروائیاں جاری ہیں وہاں ذرائع ابلاغ کی رسائی نہ ہونے کی وجہ سے یہاں ہونے والی ہلاکتوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق تقریباً ناممکن ہے۔

فوج نے اس علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف گزشتہ اکتوبر میں کارروائیاں شروع کی تھیں جن میں گزشتہ ماہ سے تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔

اسی علاقے سے ملحقہ ایک اور قبائلی ایجنسی شمالی وزیرستان میں گزشتہ جون میں ضرب عضب کے نام سے ملکی و غیر ملکی عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی شروع کی گئی تھی۔

بدھ کو شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں کی گئی فضائی کارروائیوں میں 22 مشتبہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا بتایا گیا تھا۔

فوجی حکام کا کہنا ہے آپریشن کر کے شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی کے متعدد علاقوں کو دہشت گردوں سے پاک کر دیا گیا ہے اور جب تک یہاں ایک بھی دہشت گرد موجود ہے یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔

XS
SM
MD
LG