رسائی کے لنکس

پاکستان کے ایوان بالا میں بھی20ویں آئینی ترمیم کا بل منظور


پاکستان کے ایوان بالا میں بھی20ویں آئینی ترمیم کا بل منظور

پاکستان کے ایوان بالا میں بھی20ویں آئینی ترمیم کا بل منظور

ایوان زیریں کے بعد ایوان بالا میں بھی بیسویں آئینی ترمیم کا بل دو تہائی اکثریٹ سے طور پر منظور کر لیا گیا ۔ سو میں سے 74 اراکین نے ترمیم کے حق میں ووٹ دیا. جماعت اسلامی کے دو ارکین پروفیسر خورشید احمد اور پروفیسر ابراہیم نے مخالفت میں ووٹ دیا ۔ صدر کے دستخط کے بعد بیسویں ترمیم آئین کا حصہ بن جائے گی ۔

پیر کو ایوان بالا میں بیسویں آئینی ترمیم کا بل سینیٹر نیر بخاری نے پیش کیا ۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے سینیٹر پروفیسر خورشید احمد کا کہنا تھا کہ 20 ویں ترمیم عجلت میں منظورنہ کی جائے۔ انہیں ترمیم کی شق نمبر سات سمیت بعض شقوں پر اعتراض ہے، تاہم سینیٹر میاں رضا ربانی کی یقین دہانی کے بعد جماعت اسلامی کی جانب سے ساتویں شق پر اعتراضات واپس لے لیے اور سینیٹ میں بیسویں آئینی ترمیم کی 7شقیں منظور کر لی گئیں۔ جماعت اسلامی کی جانب سے شق نمبر 9 میں ترامیم کی تجویز کو ایوان سے متفقہ طور پر مسترد کردیا۔

بیسویں ترمیم کی منظوری کے بعد وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایوان زیریں کے بعد ایوان بالا سے بھی بیسویں آئینی ترمیم کی دو ، تہائی سے منظوری ایک بڑی کامیابی ہے جس پر پوری قوم مبارک باد کے مستحق ہے۔ پاکستان میں آمروں نے آئین کا حلیہ بگاڑ دیا تھا، اب کوئی ڈکٹیٹر ٹیلی ویژن پر آ کر اکیلا یہ نہیں کہہ سکے گا کہ ملک میں اسمبلیاں توڑ دی گئی ہیں ۔موجودہ پارلیمنٹ نے تین مرتبہ آئین میں ترمیم کر کے بہت بڑا کارنامہ سر انجام دیا ہے ۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ بیسویں ترمیم سے چھوٹے صوبوں کا احساس محرومی دور ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ آئینی ترمیم کا سہرا صدر آصف علی زرداری کے سر جاتا ہے ، ان لوگوں سے پوچھنا چاہتا ہوں جو یہ کہتے تھے کہ موجودہ صدر کے دور میں وہ انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے لیکن اب وہ بتائیں کہ نگراں حکومت کے شفاف انتخابات میں وہ حصہ لیں گے کہ نہیں ؟

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ دور حکومت میں آئین میں جتنی ترامیم کی گئی ہیں ، اس سے قبل پہلے کبھی اتنی قانون سازی نہیں ہوئی ۔بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ضمنی انتخابات میں 28 اراکین اسمبلی کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے بیسویں آئینی ترمیم پاس کی گئی ہے لیکن ان لوگوں کو دیگرقانون سازی بھی دیکھنی چاہیے کہ اب کوئی یہ نہیں کہہ سکے گا کہ حکمراں دھاندلی سے اقتدار میں آئے ہیں ۔ ہار ، جیت کھیل کا حصہ ہے لیکن پارلیمنٹ میں آنے والے ہر شخص کو عوام کی بہتری کیلئے کوشش کرنی چاہیے ۔

ترمیم کے مطابق چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کی تعیناتی کی مدت کم از کم پانچ سال ہو گی ۔ ارکان کو چیف الیکشن کمشنر کی طرح حلف اٹھانا ہو گا ۔ اگر کسی رکن کی برطرفی مقصود ہو تو اس کا طریقہ کار بھی ججوں کی برطرفی کے طریقہ کار کے مطابق ہوگی ۔ نگراں حکومت کے وزیراعظم اور کابینہ کے ارکان کے لئے نام اسمبلی ٹوٹنے کے تین یوم کے اندر لیڈر آف دی ہاؤس اور قائد حزب اختلاف کی مشاورت سے صدر کو بھیجے جائیں گے ۔

ترمیم کے مطابق اگر نگراں وزیراعظم کے نام پر اتفاق نہ ہو سکا تو ایسی صورت میں معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے سپرد کر دیا جائے گا ۔ اسپیکر قومی اسمبلی آٹھ رکنی کمیٹی تشکیل دیں گے جس میں حکومت اور اپوزیشن کے چار چار اراکین شامل ہوں گے جنہیں وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر انفرادی طور پر نامزد کردہ نام بھجوائیں گے ۔ اگر کمیٹی بھی ناکام رہتی ہے تو پھر معاملہ دونوں کے اندر حتمی فیصلے کے لئے چیف الیکشن کمشنر کو بھجوایا جائے گا اور یہی طریقہ کار نگراں وزرائے اعلیٰ کے لئے چاروں صوبوں میں بھی اختیار کیا جائے گا ۔

نگراں سیٹ اپ کے قیام تک وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ اپنے عہدوں پر برقرار رہیں گے ۔ یہ ترمیم فوری طور پر نافذ العمل ہو گی اور اس کا اطلاق اپریل 2010ء سے ہو گا ۔ ترمیم سے سپریم کورٹ کی طرف سے معطل کیے گئے 28 ارکان پارلیمنٹ کے انتخاب کو ایک مرتبہ کا قانونی جواز مل جائے گا ۔

XS
SM
MD
LG