رسائی کے لنکس

دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے آئین میں ترامیم کے دو بل اسمبلی میں پیش


قومی اسمبلی (فائل فوٹو)

قومی اسمبلی (فائل فوٹو)

21 ویں آئینی ترامیم اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کا مسودہ آئندہ منگل کو پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔

پاکستان میں دہشت گردی سے نمٹںے کے لیے 21ویں آئینی ترمیم کے بل کے علاوہ آرمی ایکٹ 1952 میں مزید ترمیم کا بل ہفتہ کو قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید، جن کے پاس وزات قانون و انصاف کا اضافی قلمدان بھی ہے، نے ترامیم کے بل قومی اسمبلی میں پیش کیے۔ تاہم اس بارے میں بحث نہیں کی گئی اور اجلاس پیر کی شام تک ملتوی کر دیا گیا۔

نئی آئینی ترامیم کا مقصد پاکستان کے خلاف جنگ کے مرتکب اور دہشت گردی کے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات کو تیزی سے نمٹانا اور ایسے عناصر کی سرکوبی کے لیے موثر اقدامات کرنا ہے۔

وزیراعظم نواز شریف کی قیادت میں جمعہ کو پارلیمانی سیاسی جماعتوں کے ایک مشاورتی اجلاس میں آئینی ترمیم کے مسودے کو پارلیمان میں پیش کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔

اس اہم اجلاس میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے علاوہ انٹیلی جنس ادارے ’آئی ایس آئی‘ کے سربراہ لفٹیننٹ جنرل رضوان اختر نے بھی شرکت کی تھی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ فوجی افسران کی سربراہی میں خصوصی عدالتیں دو سال کے لیے قائم کی جائیں گی۔ اس موقع پر جنرل راحیل شریف نے کہا کہ خصوصی عدالتوں کا قیام فوج کی خواہش نہیں بلکہ غیر معمولی حالات کا تقاضا ہے۔

خصوصی عدالتوں کے قیام کے حوالے سے بعض سیاسی جماعتوں بشمول حزب اختلاف کی جماعت پیپلز پارٹی کی طرف سے بعض تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔

تاہم جمعہ کی رات وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری سیاسی جماعتوں کے مشاورتی اجلاس میں شریک تھے۔

’’آصف زرداری مطمئن تھے، اُنھوں نے بہت ہی مثبت بلکہ قائدانہ کردار ادا کیا ہے اس تمام اتفاق رائے کو حاصل کرنے میں۔‘‘

پرویز رشید کا کہنا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مولانا فضل الرحمن کے دینی مدارس کے حوالے سے تحفظات پر بھی تفصیلی بات چیت کی گئی۔

’’مولانا (فضل الرحمٰن) کے جو تحفظات ہیں اُن کا حل نکال لیا اور مولانا کو اُن سے آگاہ بھی کر دیا گیا ہے۔ لیکن بنیادی طور پر کسی کو کسی چیز سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اگر کسی کے کوئی تحفظات تھے تو اس کی اچھے طریقے سے وضاحت کی گئی ہے۔ اگر مزید بھی اُن کی تسلی درکار ہو گی تو مزید تسلی بھی دی جائے۔‘‘

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق 1952 کے آرمی ایکٹ کی شق ’ڈی‘ میں تبدیلی کی جائے گی۔

آرمی ایکٹ کے تحت پاکستان کے خلاف جنگ کرنے، فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ کرنے، سول و فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے، دھماکہ خیز مواد رکھنے یا کہیں منتقل کرنے اور مذہب کے نام پر ہتھیار اٹھانے والوں کے خلاف مقدمہ چلا کر سزائیں سنائی جا سکیں گی۔

مزید برآں اغواء برائے تاوان اور غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے والوں کے خلاف بھی اسی قانون کے تحت کارروائی کی جا سکے گی۔

21 ویں آئینی ترمیم اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کا مسودہ آئندہ منگل کو پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔

پشاور میں فوج کے زیرانتظام اسکول پر 16 دسمبر کو پاکستان کی تاریخ کے ایک بدترین دہشت گرد حملے میں 133 بچوں سمیت 149 افراد کی ہلاکت کے بعد دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن کارروائی فیصلہ کیا گیا تھا۔

وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ اب وقت آ پہنچا ہے کہ دہشت گردوں اور اُن کے لیے ہمدردی رکھنے والوں کا صفایا کیا جائے اور اُن کے بقول اس کام میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔

حکام کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کے مقدمات میں ملوث بڑی تعداد میں ایسے قیدی ہیں جن کے خلاف عدالتی کارروائی کا عمل مکمل نہیں ہو سکا ہے۔ اس لیے دہشت گردی میں ملوث مجرمان کو سزائیں دلوانے کے لیے اب خصوصی فوجی عدالتیں قائم کر کے اُن میں مقدمات چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پشاور حملے کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے ملک میں 2008ء سے سزائے موت پر عملدرآمد پر عائد پابندی ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا جس کے بعد سے دہشت گردی میں ملوث ہونے پر عدالتوں سے سزائے موت پانے والے سات مجرموں کو پھانسی دی جاچکی ہے۔

XS
SM
MD
LG