رسائی کے لنکس

بلدیاتی انتخابات: پنجاب میں مسلم لیگ (ن)، سندھ میں پیپلز پارٹی آگے


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پنجاب میں دوسرے نمبر پر آزاد امیدوار رہے جنہوں نے اب تک 765 نسشتیں حاصل کر لی ہیں جب کہ پاکستان تحریک انصاف 301، پاکستان پیپلز پارٹی 12، جماعت اسلامی نے آٹھ اور 13 نشستیں دیگر جماعتوں کے امیدواروں نے حاصل کی ہیں۔

پاکستان کے دو صوبوں (پنجاب اور سندھ) میں جمعرات کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق حسب سابق پنجاب میں مسلم لیگ ن اور سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کو سبقت حاصل ہے۔

پنجاب میں اٹک، جہلم، منڈی بہاوالدین، حافظ آباد، گوجرانوالہ، سرگودھا، شیخوپورہ، میانوالی، چنیوٹ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، ساہیوال اور خانیوال میں ووٹ ڈالے گئے تھے اور جمعہ کی صبح دوپہر تک پنجاب سے 2399 نشستوں میں سے 2042 کے غیر حتمی نتائج سامنے آچکے تھے جن میں پاکستان مسلم لیگ ن 931 پر کامیاب ہوئی ہے۔

دوسرے نمبر پر آزاد امیدوار رہے جنہوں نے اب تک 765 نسشتیں حاصل کر لی ہیں جب کہ پاکستان تحریک انصاف 301، پاکستان پیپلز پارٹی 12، جماعت اسلامی نے آٹھ اور 13 نشستیں دیگر جماعتوں کے امیدواروں نے حاصل کی ہیں۔

دوسرے مرحلے میں سندھ کے 14 اضلاع مقامی حکومتوں کا انتخاب ہوا جن میں حیدرآباد، ٹنڈومحمد خان، ٹنڈو اللہ یار، دادو، مٹیاری، جامشورو، بدین، ٹھٹہ، سجاول، شہید بینظیر آباد، نوشہرو فیروز، میر پور خاص، عمر کوٹ اور تھرپارکر شامل ہیں۔

یہاں جمعہ کی دوپہر تک 1833 نشستوں میں سے 1643 کے غیر سرکاری نتائج آچکے تھے جس کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی 884 نشستوں کے ساتھ سرفہرست ہے۔ آزاد امیدواروں نے 118 اور متحدہ قومی موومنٹ نے بھی 118 نشستوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ مسلم لیگ ن کو 63، مسلم لیگ فنکشنل کو 22، پاکستان تحریک انصاف کو سات اور دیگر جماعتوں کو تیس نشستیں مل سکی ہیں۔

ضلع بدین میں پاکستانی پیپلز پارٹی کے ایک ناراض رہنما ذوالفقار مرزا کے حامیوں نے میدان مار لیا اور 13 وارڈز میں کامیابی حاصل کی۔

پہلے مرحلے کی نسبت مجموعی طور پر انتخابات کا یہ مرحلہ پرامن رہا اور صرف چند ایک مقامات سے مخالفین میں ہاتھا پائی کے واقعات سامنے آئے۔ گزشتہ مرحلے میں سندھ کے ضلع خیرپور میں مخالف گروپوں کے درمیان مسلح تصادم سے کم ازکم 12 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اس موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت اقدام کیے گئے تھے۔ پولیس اور رینجرز کے اضافی اہلکاروں کو پولنگ اسٹیشنز پر تعینات کرنے کے علاوہ فوج کو بھی چوکس رہنے کا حکم دیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG