رسائی کے لنکس

وہاڑی: اسپتال میں چار نوزائیدہ بچوں کی 'پراسرار' ہلاکت


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسپتال کے سربراہ ڈاکٹر محمد اشرف نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کی اور کہا کہ اسپتال میں داخلے کے وقت بچوں کی حالت تشویشناک تھی۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے جنوبی ضلع وہاڑی کے ایک سرکاری اسپتال میں چار نوزائیدہ بچے پراسرار طور پر ہلاک ہو گئے۔

گزشتہ رات پیش آنے والے اس واقعے کے بعد لواحقین نے اسپتال انتطامیہ کے خلاف مظاہرہ کیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ بچے اسپتال کے عملے کی نااہلی کی وجہ سے فوت ہوئے ہیں۔

حکام نے اس بچوں کی موت کی وجوہات جاننے کے لیے ایک تحقیاتی کمیٹی بنا دی ہے۔

اسپتال کے سربراہ ڈاکٹر محمد اشرف نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کی اور کہا کہ اسپتال میں داخلے کے وقت بچوں کی حالت تشویشناک تھی۔

بچوں کے لواحقین کا موقف ہے کہ بچوں کی ہلاکت آکیسیجن کی کمی کی وجہ سے ہوئی ہے جبکہ ڈاکٹر اشرف نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان اموات کی وجوہات طبی تھیں اور ان بچوں کی پیدائش وقت سے پہلے ہوئی جب کہ وزن کی کمی کی وجہ سے انھیں مختلف طبی پیچیدگیوں کا سامنا تھا۔

" اسپتال میں بچوں کے لیے صرف آٹھ بیڈ ہیں جبکہ اسپتال میں پندرہ سے بیس بچے داخل ہوتے ہیں۔ اسپتال کے پاس ایک بھی وینٹی لیٹر موجود نہیں ہے جبکہ بچوں کے لیے صرف چار انکیوبیٹر ہیں"۔

ڈاکٹر اشرف کا مزید کہنا ہے کہ ان کے ہاں روزانہ دو سے تین بچے موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں نوازئیدہ بچوں کی اموات کی وجہ صحت کی مناسب سہولتوں کا فقدان اور معاشی مسائل ہے۔

بچوں کے دیکھ بھال سے متعلق ایک بین الاقوامی تنظیم سیوو دی چلڈرن کی طرف اس سال مارچ میں جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کم سن بچوں کی شرح اموات دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس کی عمومی وجوہات زچگی کے دوران مناسب دیکھ بھال اور مناسب طبی سہولتوں کا نا ہونا ہے جس سے ماں اور پیدا ہونے والے بچے اکثر طبی پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG