رسائی کے لنکس

ایبٹ آباد کمیشن کی ’رپورٹ چوری‘ نہیں ہوئی: وزیر اطلاعات


بن لادن کی ایبٹ آباد میں پناہ گاہ

بن لادن کی ایبٹ آباد میں پناہ گاہ

اتوار کو وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں وفاقی حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا ’’جو (مندرجات) افشا ہوئے ہیں، جسے رپورٹ کہا جا رہا ہے وہ رپورٹ نہیں ہے۔ یہ سرکاری رپورٹ نہیں ہے جس پر لوگ تبصرہ کررہے ہیں۔‘‘

پاکستان کے وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ کے مندرجات کو غیر مستند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اصل رپورٹ ’’چوری نہیں ہوئی اور آج بھی حکومت کے پاس محفوظ ہے۔‘‘

اتوار کو وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں وفاقی حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا ’’جو (مندرجات) افشا ہوئے ہیں، جسے رپورٹ کہا جا رہا ہے وہ رپورٹ نہیں ہے۔ یہ سرکاری رپورٹ نہیں ہے جس پر لوگ تبصرہ کررہے ہیں۔‘‘

گزشتہ ہفتے مقامی و غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں مئی 2011ء میں ایبٹ آباد میں القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کے خلاف خفیہ امریکی مشن کے حقائق جاننے کے لیے بنائے گئے کمیشن کی رپورٹ کے مندرجات سامنے آئے تھے جس میں پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت پر تنقید کی گئی تھی۔

منگل کو اخبارات میں شائع ہونے والے مندرجات میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کے لیے یہ ’’تضحیک آمیز‘‘ واقعہ ریاستی اداروں کی نااہلی کی وجہ سے ہوا۔

یہ مندرجات منظرعام پر آنے کے بعد حکومت سے اس رپورٹ کی صداقت اور اسے منظر عام پر لانے کے مطالبات میں اضافہ ہو چلا تھا۔


وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید

وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید


وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق یہ رپورٹ رواں سال مارچ سے حکومت پاکستان کی تحویل میں ہے۔

’’ سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے اس وقت کے وزیر قانون کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی تھی جس کا مقصد رپورٹ شائع کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں سفارشات حکومت کو فراہم کرنا تھیں۔‘‘

سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ اس کمیٹی نے اپنا کام مکمل نہیں کیا تھا اور موجودہ حکومت اس رپورٹ کی اشاعت کے بارے میں فیصلہ کمیٹی کی رائے لینے کے بعد کرے گی۔

دوسری طرف 12 جولائی کو دہشت گردی سے متعلق متفقہ حکمت عملی مرتب کرنے کے لیے بلایا گیا سیاسی قائدین کا اجلاس حکومت کی طرف سے ملتوی کیے جانے پر مختلف حلقوں کی طرف سے اسے تنقید کا سامنا ہے۔

اس التوا پر سیاسی مخالفین اور مبصرین کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ حکومت اس معاملے میں سنجیدہ ہے اور اس بارے میں مربوط پالیسی بنانے کے لیے کام کررہی ہے۔

ان کاکہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ کے بیرون ملک ہونے کی وجہ سے بھی اس کانفرنس کو ملتوی کیا گیا۔

تحریک انصاف کے رہنما اس حکومتی موقف کو ایک بہانہ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کی جماعت کی تیاریاں مکمل ہیں۔

تاہم سینیٹر پرویز رشید کا کہنا تھا کہ’’ وہ (عمران خان) ایک فرد واحد نہیں ہیں، وہ جس پارٹی کے چیئرمین ہیں اس کی حکومت ہے وہاں (خیبر پختونخواہ) میں۔ اس لیے ان کا ہونا بہت ضروری ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں قیام امن کے لیے شدت پسندوں سے بات چیت کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
XS
SM
MD
LG