رسائی کے لنکس

ایبٹ آباد تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ وزیراعظم کو پیش


کمیشن کے سربراہ جاوید اقبال کی وزیراعظم اشرف سے ملاقات

کمیشن کے سربراہ جاوید اقبال کی وزیراعظم اشرف سے ملاقات

کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے وزیراعظم کو رپورٹ کے چیدہ چیدہ نکات کے بارے میں بریفنگ دی۔ البتہ بیان میں اس رپورٹ کے مندرجات کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔

القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی اور 2 مئی 2011 کو خفیہ امریکی آپریشن میں اس کی ہلاکت کے اسباب و واقعات کا جائزہ لینے کے لیے قائم اعلیٰ سطحی کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے تحقیقی رپورٹ جمعرات کو وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو پیش کی۔

سرکاری بیان کے مطابق جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے وزیراعظم کو رپورٹ کے چیدہ چیدہ نکات کے بارے میں بریفنگ دی۔ البتہ بیان میں اس رپورٹ کے مندرجات کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔

جاوید اقبال کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے 100 سے زائد افراد کے بیانات قلمبند کیے جن میں فوج، فضائیہ، پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کے عہدیداروں کے علاوہ اسامہ بن لادن کے وہ اہل خانہ بھی شامل تھے جنہیں امریکی کمانڈو آپریشن کے بعد ایبٹ آباد میں القاعدہ کے سربراہ کی پناہ گاہ سے پاکستانی حکام نے اپنی تحویل میں لیا تھا۔

کمیشن کے سربراہ نے اس سے قبل ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا تھا کہ اُنھوں نے دیگر چار ممبران کے ہمراہ ایبٹ آباد کے علاقے بلال ٹاؤن میں واقع اس گھر کا دورہ بھی کیا تھا جہاں اسامہ بن لادن مقیم تھا۔

کمیشن کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ اپنی رپورٹ میں غفلت کے مرتکب ہونے والے اداروں اور عہدیداروں کی نشاندہی کرنے کے علاوہ اپنی سفارشات بھی حکومت کو پیش کرے گا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات رونما نا ہو سکیں۔
XS
SM
MD
LG