رسائی کے لنکس

ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ جاری کی جائے: سینیٹ کمیٹی


ایبٹ آباد میں اسامہ کی پناہ گاہ (فائل فوٹو)

ایبٹ آباد میں اسامہ کی پناہ گاہ (فائل فوٹو)

کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید نے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ کمیٹی چاہتی ہے کہ پارلیمان میں اس پر تفصیلی بحث ہو اور ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے ’’تضحیک آمیز‘‘ واقعات کو روکا جا سکے۔

سینٹ کی کمیٹی برائے دفاعی امور نے نواز شریف حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ کو فوری جاری کرتے ہوئے اس میں دی گئی سفارشات پر ’’مکمل نفاذ‘‘ کو یقینی بنانے کے لیے طریقہ کار وضع کرے۔

بدھ کو بند کمرے کے اجلاس میں گزشتہ ہفتے ذرائع ابلاغ میں اس رپورٹ کے مندرجات کی اشاعت اور القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد شہر میں امریکی آپریشن کی اصل تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کے دفتر سے چوری ہونے سے متعلق حکومت کی تردید پر تفصیلی بحث کی گئی۔

اجلاس میں حکمران اور حزب اختلاف کے قانون سازوں کے علاوہ وزارت دفاع کے عہدیدار، ایبٹ آباد کمیشن کے رکن اور متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی۔

کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید نے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ کمیٹی چاہتی ہے کہ پارلیمان میں اس پر تفصیلی بحث ہو اور ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے ’’تضحیک آمیز‘‘ واقعات کو روکا جا سکے۔

’’مقصد ہے کہ ایک مشترکہ ناکامی تھی اسے ہم آگے لے کر چلیں۔ کسی فرد یا ادارے پر الزام تراشی نہیں ہونی چاہیے۔ یہ ملکی مفاد کی بات ہے۔ بہت اہم اشیوز ہیں۔ مقصد ہے کہ دوبارہ ایسے واقعات نا ہوں۔‘‘

مشاہد حسین سید نے بتایا کہ رپورٹ میں کمیشن کے ایک رکن سابق سفیر جہانگیر اشرف قاضی کی طرف سے 40 صفحات کا اختلافی نوٹ بھی لکھا گیا ہے تاہم انہوں نے اس بارے میں مزید کچھ بتانے سے گریز کیا۔

انہوں کہا کہ ملک کو لاحق سکیورٹی کے خطرات کے پیش نظر کمیٹی آئندہ ماہ خفیہ اداروں کی اصلاحات اور تنظیم نو کے عنوان پر عوامی سماعت کا انعقاد کرے گی۔

موجودہ حکومت میں شامل عہدیدار بھی انٹیلی جنس ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں معلومات کے تبادلے کے غیر موثر اور غیر فعال نظام کو دہشت گردی اور ملک کو دیگر خطرات سے نمٹنے میں ایک رکاوٹ گردانتے ہیں۔

علاوہ ازیں حکومتی ذمہ داران کے مطابق نئی قومی سلامتی کی پالیسی مرتب کرنے پر بھی کام ہورہا ہے جس میں سکیورٹی سے متعلق مختلف اداروں کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے پر زور دیا جائے گا۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر اور دفاعی کمیٹی کے رکن حاجی محمد عدیل کا وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہنا تھا کہ ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ کے جاری ہونے سے ریاستی اداروں کو اپنی کوتاہیاں درست کرنے کا موقع ملے گا اور حکومتی نظام میں موجود حقائق کو چھپانے کے رویے کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

’’جب ان (ریاستی اداروں) کو احساس ہوگا کہ عوام کے نمائندوں کو وہ جوابدہ ہیں تو یقیناً آئندہ ان سے غفلت نہیں ہوگی۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ادارے اس میں ملوث ہیں۔ جب اصل، مکمل رپورٹ ہمارے سامنے آئے گی تو پھر ہم کچھ کہہ سکیں گے۔ ہوسکتا ہے کہ چند لوگوں کی غفلت یا ملی بھگت سے ایسا ہوا ہو۔‘‘

نواز شریف حکومت کے مرکزی ترجمان اور وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کا کہنا ہے کہ ایپبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کو جاری کرنے کا فیصلہ اس بارے میں سابقہ حکومت کی بنائی گئی تین رکنی کمیٹی کی رائے لینے کے بعد کیا جائے گا۔

مئی 2011 میں ہونے والے امریکی آپریشن کے حقائق جاننے کے لیے بنائے گئے چار رکنی کمیشن کے سربراہ سابق جسٹس جاوید اقبال کے مطابق کمیشن خود حکومت کو اس رپورٹ کے جاری کرنے کی سفارش کر چکا ہے۔

گزشتہ ہفتے اس رپورٹ کے چند مندرجات مقامی اور غیرملکی ذرائع ابلاغ میں شائع ہوئے جس میں ذمہ دار ریاستی اداروں کو ٹھہرایا گیا۔ تاہم چند روز کے بعد پاکستانی حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ حکومت کی تحویل میں موجود ’’اصل‘‘ رپورٹ چوری نہیں ہوئی اور شائع ہونے والے مندرجات مستند نہیں۔
XS
SM
MD
LG