رسائی کے لنکس

احتساب کے مجوزہ قانون پر تنقید کا سلسلہ جاری


Pakistan's Parliament

Pakistan's Parliament

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس مجوزہ قانون میں بعض بنیادی خامیاں ہیں جس سے شفاف احتساب ممکن نہیں۔

حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں بحث اور منظوری کے لیے پیش کیے جانے والے مجوزہ احتساب بل پر حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ (ن) اور ایوان سے باہر مختلف غیر جانبدار حلقوں کی طرف سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس مجوزہ قانون میں بعض بنیادی خامیاں ہیں جس سے شفاف احتساب ممکن نہیں۔

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے اعلی عہدے دار عادل گیلانی کا کہنا ہے کہ مجوزہ قانون کے تحت اگر صدر، وزیراعظم اور منتخب نمائندوں کے خلاف بدعنوانی کے الزامات میں کارروائی کرنا آسان نہیں ہو گا۔

’’جس ملک میں دھمکیاں، دھاندلیاں اور قتل و غارت عام ہوں، وہاں اس قانون کی موجودگی میں (ججوں کے لیے) فیصلے لینا آسان نہیں ہوگا۔‘‘

انھوں نے کہا کہ اس مجوزہ بل کے ذریعے سن 2002 سے قبل قائم بدعنوانی کے مقدمات پر کوئی کارروائی نہیں ہو سکے گی۔

مجوزہ حکومتی بل میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی بدعنوانی کے جرم کے ارتکاب کے دس سال بعد اس کے بارے میں تحقیقات نہیں کی جائیں گی۔

جمہوریت کے فروغ کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم پلڈاٹ کی ڈائریکٹر آسیہ ریاض کہتی ہیں کہ ملک میں جمہوریت کے استحکام کے لیے احتساب کا موثر قانون نا گزیر ہے۔

’’سیاسی حکومتوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ بدعنوانی کے الزامات رہے ہیں اور اگر ان کے خیال میں فوجی حکمرانوں کا احتساب دراصل انہیں نشانہ بنانا تھا تو پھر متفقہ طور پر ایک احتسابی نظام پیش کیا جاتا۔ جب تک وہ نہیں جمہوریت کو خطرات رہیں گے۔‘‘

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ مجوزہ بل کا مقصد دراصل ان کے بقول چند بدعنوان لوگوں کو احتساب کے عمل سے بچانا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن مسلم لیگ (ن) ایوان میں اس کی منظوری کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔

تاہم حکمران پیپلز پارٹی کے عہدیدار اس تنقید کو رد کرتے ہیں کہ مجوزہ احتساب بل کسی سیاسی مقاصد کے لیے بنایا جا رہا ہے اور طویل مشاورت کے بعد حزب مخالف کی جماعتوں کی بیشتر تجاویز بھی اس بل میں شامل کی گئی ہیں۔
XS
SM
MD
LG