رسائی کے لنکس

پاکستان اچیومنٹ ایوارڈ یوکے اینڈ یورپ کی شاندار تقریب


ایواڈز کی یہ خوبصورت شام ایسے تارکین ہم طنوں کے نام تھی، جنھوں نے اپنے اپنے شعبہ جات میں ترقی کی، اور ایک پاکستانی کی حیثیت سے، برطانیہ میں پاکستان کا نام روشن کیا

چھٹے پاکستان اچیومنٹ ایواڈز، یوکے اینڈ یورپ،2014 ء کی باوقار تقریب کا انعقاد لندن کےایک نجی ہوٹل میں کیا گیا تھا ایواڈز کی یہ شاندار شام ایسے برطانوی پاکستانیوں کی کامیابیوں پر انھیں خراج تحسین پیش کرنے کے لیے وقف تھی کجو اپنی خدمات سےبرطانیہ کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں اور انفرادی حیثیت سے برطانوی معاشرے میں پاکستان کی مثبت شناخت کو نمایاں کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

’پاکستان اچیومنٹ ایواڈز‘ کی تقریب حسب روایت رقص و موسیقی اور فیشن شوز اور ایواڈز سے سجی ہوئی تھی جس میں پاکستانی کمیونٹی کی نمایاں شخصیات اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بھرپور شرکت کی۔ ان کے علاوہ تقریب میں پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا کے لوگوں کی بھی بڑی تعداد موجود تھی۔

برطانوی رکن پارلیمنٹ صادق خان

برطانوی رکن پارلیمنٹ صادق خان

’پاکستان اچیومنٹ ایواڈز‘ کی کامیاب شام کا سہرا جہاں اس تقریب کے آرگنائزر اور منتظمین کو جاتا ہے وہیں تقریب کی میزبان دردانہ انصاری نے اپنی شائستہ گفتگو اور برجستہ جملوں سےحاضرین کے دل جیت لیے اور انھیں بالکل بور نہیں ہونے دیا۔

دردانہ انصاری صحافت کے میدان میں ممتاز مقام رکھتی ہیں وہ ایک خیراتی ادارے کی سربراہ بھی ہیں دردانہ انصاری کو برطانوی مسلم خواتین کے لیے تعلیم کے شعبے میں شاندار خدمات انجام دینے پرشاہی اعزاز'او بی ای' سے نوازا گیا ہے۔

​اس یادگار شام میں مہمانان گرامی کی تفریح طبع کے لیے موسیقی کی ایک محفل سجائی گئی جس میں بنگلہ دیشی نژاد برطانوی گلوکارہ سوزانا انصر نے اپنی آواز کا جادو بکھیرا سوزانا کی مدھر اور دلکش آواز نے تقریب کی رونق کو چار چاند لگا دئیے۔

ماہر کتھک رقاص کرن پنگالی نے حسب روایت چھٹے اچیومنٹ ایواڈز کے لیے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا ہندی کلاسیکل اور مغربی فیوژن کے حسین امتزاج پر مبنی رقص کرن پنگالی کی اصل پہچان ہے جس سے حاضرین خوب لطف اندوز ہوئے۔

​اس موقع پر ایک رنگارنگ فیشن شو 'سوچ ایونٹ' کی طرف سے آرگنائز کیا گیا جس میں دبئی، پاکستان اور برطانیہ کے معروف ڈیزائنرز نے روایتی پوشاک اور جدید انداز کے مغربی ملبوسات کی نمائش کی معروف ڈیزائنرز نادیہ مستری اور زیف ظفر کے بولڈ رنگوں اور دیدہ زیب ایمبرائیڈری سے سجے اسٹائلش ملبوسات کو پیش کرنے کے لیے خوبصورت ماڈلز نے ریمپ پر کیٹ واک کی جنھیں لوگوں کی طرف سے خوب پذیرائی حاصل ہوئی۔

ایواڈز کی اس خوبصورت شام میں ایسے تارکین وطن ہم طنوں کے نام تھی جنھوں نے اپنے اپنے شعبہ جات میں ترقی کی اور ایک پاکستانی کی حیثیت سے برطانیہ میں پاکستان کا نام روشن کیا۔ اس سلسلے میں پاکستانی نژاد برطانوی رکن پارلیمنٹ صادق خان اور ممبر آف یوپین پارلیمنٹ، افضل خان اور سجاد کریمجیسے منجھے ہوئے سیاستدانوں کو 'رول ماڈل' کی حیثیت سے ایواڈز دیے گے ایواڈز دینے کا سلسلہ شروع ہوا، تو کمیونٹی کے بہت سے ایسے لوگوں کو ان کی خدمات کے بدلے میں سراہا گیا جو اپنی انتھک محنت کے ذریعے آج اس مقام تک پہنچے ہیں۔

یوتھ آف دا ائیر کا ایوارڈ کمبرج یونیورسٹی کی طالبہ رابعہ نوید نے جیتا، جنھوں نے جی سی ایس ای امتحان 15 اے اسٹار اور 5 اے کے ساتھ پاس کیا۔ انٹرنشنل مینسا کے آئی کیو ٹیسٹ میں رابعہ نے ہائر اسکور حاصل کر کے رکنیت حاصل کی جبکہ ان دنوں رابعہ کیمبرج یونیورسٹی اور کامن ویلتھ ٹرسٹ کے وظیفے پر انجنیرئنگ پڑھ رہی ہیں۔

’میڈیا پرسن آف دا ائیر کا ایوارڈ‘ ایشیا کے ایک مقبول ریڈیو میزبان، فرح نے حاصل کیا۔ آرٹ اینڈ کلچر میں فیشن انڈسٹری کا ایوارڈ ماڈل ڈیزائنر زیف ظفر نے حاصل کیا، جبکہ ہر سال کی طرح اسپورٹس، آرٹ، میڈیا اور زندگی کے دیگر شعبوں سے متعلقہ نمایاں شخصیات کو ان کی خدمات کے لیے پاکستان اچیومنٹ ایواڈ سے نوازا گیا۔

پاکستان اچیومنٹ ایواڈز کے چیرمئین عطا اے حق نے ایک خصوصی بات چیت میں وی او اے کو بتایا کہ پاکستان اچیومنٹ ایواڈز یوکے اینڈ یورپ کی شروعات سنہ 2009 میں ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ ہم دیکھتے تھے کہ برطانیہ جیسے کثیر الثقافتی معاشرے میں رہنے والی مختلف کمیونٹیز عرصہ دراز سے اس طرح کے ایواڈز کی تقریبات کا انعقاد کر رہی ہیں لیکن،پاکستانی نژاد ہم وطنوں کی کامیابیوں کا جشن منانے کے حوالے سے کوئی بڑی تقریب نہیں کی جاتی ہے لہذا اس لحاظ سے پاکستان اچیومنٹ ایواڈ وہ واحد پلیٹ فارم ہےجہاں پہلی بار پاکستانیوں کی کامیابیوں اور ان کی شناخت کو اجاگر کرنے کے لیےباقاعدہ ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ جشن ان لوگوں کی کامیابیوں کا ہے جو دیار غیر میں انتھک محنت کے بل بوتے پر اپنا نام کماتے ہیں۔ ’ایسے لوگ پاکستان کے لیے باعث فخر ہیں۔ الحمد اللہ ہماری اس کوشش کی کمیونٹی کی طرف سے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ آج چھ برس کا عرصہ گزر چکا ہے ایواڈز کی یہ تقریب ہر سال اسی طرح منعقد کی جاتی ہے‘۔

​برطانیہ میں چیمبر آف کامرس کے ڈائریکٹر جناب اے حق نے بتایا کہ یہ عوام کے ایواڈز ہیں جو کہ عوام کے لیے ہیں اسی لیے ایواڈز کے مستحق افراد کا انتخاب عوامی رائے حاصل کرنے کے بعد کیا جاتا ہے اس سلسلے میں ہماری ویب سائٹ پر لوگ اپنی مرضی سے کسی بھی شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیت کو ایواڈکا مستحق قرار دیتے ہوئے ان کا نام منتخب کر سکتے ہیں تاہم منتخب ناموں کوججز کے فیصلے کے بعد پاکستان اچیومنٹ ایواڈز کا حقدار تسلیم کیا جاتا ہے۔

پاکستان اچیومنٹ ایواڈز چیرمئین عطا اے حق

پاکستان اچیومنٹ ایواڈز چیرمئین عطا اے حق

معروف صحافی جناب اے حق نے کہا کہ برطانیہ میں ہماری کمیونٹی کی جانب سے اس قسم کی تقریبات ہوتی رہنی چاہئیں کیونکہ اس طرح ہم پاکستان کے بارے میں پائے جانے والے منفی تاثرات کو غلط ثابت کر سکتے ہیں ایسی تقریبات کے ذریعےپاکستان کی مثبت تصویر دنیا کے سامنے پیش کرنے میں مدد ملتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس سال ایواڈز کی تقریب کی شاندار کامیابی نے ہماری ٹیم کے حوصلوں کو مزید توانائی بخشی ہے اور آخر میں اس امید کا اظہار کیا کہ آئندہ برس ایواڈز کی تقریب اس سے زیادہ بڑے پیمانے پر کی جائے گی۔

XS
SM
MD
LG