رسائی کے لنکس

مستونگ میں دو خواتین پر تیزاب سے حملہ

  • ستارکاکڑ

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

ضلع مستونگ کے ایک مصروف بازار میں موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم افراد خواتین پر تیزاب پھینک کر فرار ہو گئے۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں دو روز کے دوران خواتین پر تیزاب پھینکنے کے دو واقعات رونما ہو چکے ہیں جس پر حقوق نسواں کے کارکن تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

منگل کو ضلع مستونگ کے ایک مصروف بازار میں موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم افراد خواتین پر تیزاب پھینک کر فرار ہو گئے۔

اس حملے میں زخمی ہونے والی خواتین کو ایک مقامی نجی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔

ایک روز قبل کوئٹہ کے نواحی علاقے سریاب میں بھی موٹر سائیکل پر سوار دو افراد نے تیزاب سے حملہ کر کے چار خواتین کو زخمی کردیا تھا۔

یہ خواتین بازار میں ایک دکان سے خریداری کر کے نکل رہی تھیں کہ حملہ آوروں نے سرنج میں بھرا ہوا تیزاب ان پر پھینک دیا۔

اس حملے سے زخمی ہونے والی خواتین کو بولان میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا گیا جہاں صوبے کا واحد برن سنٹر واقع ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق تیزاب سے ان خواتین کے ہاتھ اور چہرے متاثر ہوئے لیکن ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

تاحال کسی نے بھی ان واقعات کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

کوئٹہ پولیس کے سربراہ عبدالرزاق چیمہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ زخمی ہونے والی خواتین نے پولیس کو کسی بھی طرح کا بیان نہیں دیا جس کی وجہ سے تحقیقات میں مشکل پیش آ رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس اپنے طور پر تحقیقات کر رہی ہے اور کوشش ہے کہ ان واقعات کے محرکات کا پتا چلایا جا سکے۔

پاکستان میں خواتین پر تیزاب سے حملے کے واقعات کوئی نئی بات نہیں اور بلوچستان میں بھی اس سے قبل ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

گزشتہ سال سریاب کے علاقے میں ایک خاتون کو تیزاب گردی کا نشانہ بنایا گیا جبکہ دو سال قبل ایک اسکول کی خواتین اساتذہ پر بھی تیزاب سے حملہ کیا گیا۔ دالبدین میں بھی ایسا واقعہ رونما ہو چکا ہے۔

ماضی میں پیش آنے والے ان واقعات کی ذمہ داری ایک غیر معروف مذہبی تنظیم نے قبول کی تھی۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ بلوچستان میں خواتین پر ہونے والے تیزاب حملوں کا کوئی بھی ملزم اب تک گرفتار نہیں ہو سکا ہے۔

XS
SM
MD
LG