رسائی کے لنکس

مذاکرات میں افغان صوبوں کنڑ اور نورستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں اور وہاں سے پاکستانی سرحدی چوکیوں اور دیہاتوں پر حملوں کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔

پاکستان اور افغانستان کے اعلیٰ عسکری عہدیداروں نے دوطرفہ سرحد کی نگرانی کو موثر بنانے اور انسداد دہشت گردی کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ سے جاری ایک بیان کے مطابق افغانستان کے آٹھ رکنی عسکری وفد نے جمعرات کو پاکستانی فوج کے راولپنڈی میں صدر دفتر میں ایک اجلاس میں شرکت کی۔

افغان وفد کی قیادت میجر جنرل افضل امان کر رہے تھے جب کہ اُن کے وفد میں افغان انٹیلی جنس ایجنسی کے عہدیدار بھی شامل تھے۔ ان مذاکرات میں پاکستانی وفد کی سربراہی میجر جنرل عامر ریاض نے کی۔

بیان کے مطابق سرحد پر رابطوں سے متعلق افغان وفد کو تفصیلی بریفنگ دی گئی جب کہ مذاکرات میں افغان صوبوں کنڑ اور نورستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں اور وہاں سے پاکستانی سرحدی چوکیوں اور دیہاتوں پر حملوں کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔

دونوں ملکوں کے عسکری عہدیداروں نے سرحد پر گولہ باری کے واقعات پر بھی تبادلہ خیال کیا اور پاکتانی حکام نے افغان وفد کو بتایا کہ پاکستان کی طرف سے صرف اُسی صورت جوابی کارروائی کی جاتی ہے جب سرحد پار سے دہشت گرد اُس کی چوکیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔

پاکستانی فوج کے بیان کے مطابق دونوں فریقوں نے اعتماد سازی کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ہر طرح کے حالات میں بات چیت جاری رکھی جائے گی۔

گزشتہ ہفتے ہی افغانستان کے مشیر برائے قومی سلامتی رنگین دادفر سپانتا نے دورہ کر کے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں کی تھیں جس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ دونوں ملک بغیر کسی تفریق کے اپنی اپنی حدود میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کریں گے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا سربراہ ملا فضل اللہ افغانستان کے صوبے نورستان میں روپوش ہے جہاں سے وہ تنظیم کے انتظامات چلا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG