رسائی کے لنکس

طورخم سرحد کے ذریعے آمد و رفت بحال


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پاکستانی دفترخارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران کہا تھا کہ سرحد پر نقل و حرکت کی نگرانی کو یقینی بنایا جانا بہت ضروری ہے۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور افغانستان کے سفیر حضرت عمر زخلیوال کے درمیان جمعہ کو ہونے والی ملاقات میں پاک افغان سرحدی راستے طورخم کو کھولنے پر اتفاق کیا گیا تھا، جس کے بعد سرحد کے آر پار آمد و رفت بحال ہو گئی۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ سے جمعہ کی شام جاری ہونے والے ایک مختصر بیان میں کہا گیا کہ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات خاص طور پر سرحدی نگرانی سے متعلق اُمور زیر بحث آئے۔

بیان کے مطابق طورخم سرحد کو معمول کے مطابق کھولنے پر اتفاق کیا گیا۔

فوج کی طرف سے جاری بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ دونوں عہدیداروں نے خطے میں دیرپا امن اور دہشت گردی کے خلاف کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم سرحد جمعہ کو دن بھر چوتھے روز شام گئے تک بند رہی, جس سے دونوں جانب جہاں سیکڑوں افراد پھنسے ہوئے ہیں وہیں گاڑیوں کی میلوں لمبی قطاریں بھی دیکھنے میں آئیں۔

منگل کو پاکستانی حکام نے سرحد پر باڑ لگانے پر افغان حکام کے اعتراض کے بعد سرحد بند کر دی تھی اور اطلاعات کے مطابق اس ضمن میں اب تک ہونے والی دو طرفہ بات چیت نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکی ہے۔

اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی موجودگی کے باعث کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے پاکستانی حکام نے سرحد پر اپنی جانب فرنٹیئر کور، لیویز اور خاصہ دار فورس کے اضافی اہلکاروں کو تعینات کر رکھا ہے جب کہ بعض اطلاعات کے مطابق یہاں بکتر بند گاڑیاں اور ٹینک بھی دیکھے گئے ہیں۔

سرحد کی بندش کے باعث مسافروں کے علاوہ تجارتی سامان لانے اور لے جانے والے کنٹینرز بھی یہاں رکے ہوئے ہیں اور ان کے مالکان کا کہنا ہے کہ سرحد اگر جلد نہ کھولی گئی تو انھیں شدید نقصان ہو گا۔

ٹرانسپورٹرز کی ایک مقامی تنظیم کے صدر شاکر آفریدی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ وہ دونوں ملکوں کے حکومتوں سے درخواست کرتے ہیں کہ اس معاملے کو جلد از جلد حل کیا جائے۔

سرحد پر پھنسے لوگوں کی پریشانی اپنی جگہ لیکن پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ سرحد کے آر پار غیر قانونی نقل و حرکت روکنے کے لیے دونوں ملکوں کو سنجیدہ اقدام کرنا ہوں گے۔

جمعرات کو پاکستانی دفترخارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران کہا کہ سرحد پر نقل و حرکت کی نگرانی کو یقینی بنایا جانا بہت ضروری ہے۔

"اس معاملے پر حکومت پاکستان نے فیصلہ کیا کہ وہ طورخم پر سرحدی کنٹرول کے اقدام کرے، سرحد پر قواعد کے مطابق نقل و حرکت دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔"

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تقریباً 2600 کلومیٹر طویل سرحد ہے۔

شدت پسند اکثر دشوار گزار علاقوں سے سرحد عبور کرنے کے علاوہ باقاعدہ گزرگاہوں سے بھی عام شہریوں کے بھیس میں ایک دوسرے کے ملک میں داخل ہوتے رہے ہیں اور یہ معاملہ دونوں ملکوں کے مابین سرحدی امور کے حوالے سے تناؤ کا باعث بنتا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG