رسائی کے لنکس

پاکستان نے زیر حراست 29 افغان شہری حکام کے حوالے کر دیے


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

حکام کا کہنا ہے کہ افغان شہریوں سے مکمل تفتیش اور چھان بین کے بعد کسی بھی دہشت گرد تنظیم یا سرگرمی سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا۔

پاکستان نے اپنے ہاں زیر حراست 29 افغان شہریوں کو جذبہ خیرسگالی کے طور پر افغان حکام کے حوالے کیا ہے۔

حکام کے مطابق ان افراد کو قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن کے دوران علاقے سے تحویل میں لیا گیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ افغان شہریوں سے مکمل تفتیش اور چھان بین کے بعد کسی بھی دہشت گرد تنظیم یا سرگرمی سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا اور یہ لوگ غیر قانونی طور پر ضروری دستاویزات کے بغیر علاقے میں موجود تھے۔

اتوار کو ان افراد کو پاک افغان سرحد پر واقع غلام خان پوائنٹ پر پڑوسی ملک کے حکام کے حوالے کیا گیا۔

دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ مہینوں میں سرحد پر دراندازی کے واقعات کے باعث تناؤ پایا جا رہا تھا اور بظاہر افغان شہریوں کی رہائی اس کشیدگی کو کم کرنے اور افغانستان کے نئے صدر اشرف غنی کے مجوزہ دورہ پاکستان سے قبل حالات کو معمول پر لانے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔

گزشتہ ماہ ہی پاکستانی وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز نے کابل جا کر صدر کو دورہ پاکستان کی دعوت دی تھی جو انھوں نے قبول کر لی۔ لیکن تاحال ان کے دورے کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

پاکستان یہ کہتا آیا ہے کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان خود اس کے اپنے مفاد میں ہے اور وہ وہاں ہونے والے امن عمل کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

افغان عہدیداروں کی طرف سے پاکستان پر یہ الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں کہ پاکستانی سرزمین سے عسکریت پسند افغان علاقوں میں کارروائیاں کر رہے ہیں اور اسلام آباد ان کو روکنے کے لیے موثر اقدامات نہیں کر رہا۔

لیکن پاکستانی حکام ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف جاری فوجی کارروائی میں اسے افغانستان کی طرف سے درکار تعاون میسر نہیں ہو رہا۔

مبصرین خطے میں امن و استحکام کے لیے ان دونوں پڑوسی ملکوں کی انسداد دہشت گردی کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیتے ہیں۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں افغانوں کی زیرقیادت اور افغانوں کی شمولیت سے امن عمل کی حمایت کرتا ہے اور وہاں وہ کسی بھی خاص فرد یا گروپ کا حامی نہیں۔

اسلام آباد امن عمل کو تقویت دینے کے لیے اپنے ہاں قید متعدد افغان طالبان قیدیوں کو بھی رہا کر چکا ہے۔

XS
SM
MD
LG