رسائی کے لنکس

افغان حکومت کے نمائندوں کی طالبان سے ایک اور ملاقات جلد متوقع


سرتاج عزیز (فائل فوٹو)

سرتاج عزیز (فائل فوٹو)

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں سرتاج عزیز نے کہا کہ آئندہ رابطے کے نتائج کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا مگر امید کی جا سکتی ہے کہ اس کے اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی و خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ افغان حکومت کے نمائندوں اور طالبان کے درمیان ملاقات جلد متوقع ہے جس کا مقصد جنگ سے تباہ پڑوسی ملک میں قیام امن کے لیے کوششوں کو مربوط بنانا ہے۔

سرتاج عزیز نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ ملاقات کب اور کہاں ہو گی، البتہ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان اس عمل میں فریقین کی معاونت کر رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق گزشتہ ماہ پاکستان نے طالبان نمائندوں اور افغانستان امن کونسل کے اہم رکن معصوم ستنکزئی کے درمیان چین کے شہر ارمچی میں بھی ایک ملاقات کا اہتمام کیا تھا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں سرتاج عزیز نے کہا کہ آئندہ رابطے کے نتائج کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا مگر امید کی جا سکتی ہے کہ اس کے اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔

یہ خبر ایسے وقت سامنے آئی ہے جب افغانستان میں طالبان کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ پیر کو افغانستان کی پارلیمنٹ کا اجلاس جاری تھا کہ طالبان نے یہاں ایک حملہ کیا۔

حکام کے مطابق پہلے ایک خودکش بمبار نے پارلیمنٹ کے مرکزی دروازے پر بارود سے بھری گاڑی میں دھماکا کیا جس کے بعد اُس کے چھ دیگر ساتھیوں نے فائرنگ کرتے ہوئے پوزیشنز سنبھال لیں۔ تقریباً دو گھنٹوں کی لڑائی کے بعد تمام حملہ آور مارے گئے۔

اس حملے میں تمام قانون ساز محفوظ رہے تاہم خواتین اور بچوں سمیت 30 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

طالبان حالیہ ہفتوں میں کابل میں کارروائیاں کر چکے ہیں لیکن انتہائی سخت سکیورٹی والے علاقے میں واقع پارلیمنٹ کی عمارت تک پہنچ کر منظم حملہ کرنے سے اُن کی افرادی و عسکری قوت کا اندازہ ہوتا ہے۔

حالیہ دنوں میں طالبان شدت پسندوں نے شمال میں واقع صوبہ قندوز کے اہم اضلاع پر قبضہ کر لیا تھا جن کو واپس حاصل کرنے کے لیے افغان سکیورٹی فورسز ان کے خلاف برسرپیکار ہیں۔

افغان حکومت کی بھی یہ کوشش رہی ہے کہ وہ طالبان سے مذاکرات کے ذریعے ملک میں امن کے حصول کی کوششوں کو آگے بڑھائے اور اس ضمن میں پاکستان سے کردار ادا کرنے کا بھی کہا جاتا رہا ہے۔

لیکن اب تک افغان حکومت کے عہدیداروں اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان رابطوں میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

XS
SM
MD
LG