رسائی کے لنکس

جنوبی وزیرستان: سرحد پار سے مارٹر حملہ ، کم ازکم چار سکیورٹی اہلکار ہلاک

  • شمیم شاہد

قبائلی علاقے میں تعینات پاکستانی فوج

قبائلی علاقے میں تعینات پاکستانی فوج

مقامی حکام نے بتایا ہے کہ منگل کی صُبح افغان سرحد کی جانب سے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں داغے گئے چھ مارٹر گولے انگور اڈہ میں قائم ایک پاکستانی چیک پوسٹ پر لگے اور اس حملے میں فرنٹیئر کور کے تین اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ پانچ زخمیوں میں سے ایک نے ہسپتال پہنچنے سے پہلے دم توڑ دیا۔

افغان حکام نے اس واقعہ پر فوری طور پر کوئی بیان نہیں دیا ہے۔ جنوبی وزیرستان کا قبائلی علاقہ افغانستان کے پکتیا صوبے سے جڑا ہوا ہے جہاں نیٹو افواج تعینات ہیں۔ سرحد پر گولہ باری کا یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب پاکستانی فوجی حکام نے حالیہ دنوں میں بار بار یہ الزام لگایا ہے کہ مفرور پاکستانی جنگجو افغانستان کی کنڑ اور نورستان صوبوں میں اپنی پناہ گاہوں سے سرحد پر دراندازی اور پاکستانی اہداف پر مہلک حملوں میں ملوث ہیں۔

دریں اثنا قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں جاری فوجی آپریشن کے دوران ایک جھڑپ میں مقامی حکام نے ایک سکیورٹی اہلکار اور کم ازکم دس عسکریت پسندوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

فوجی کارروائی کا ہدف وسطی کرم کا علاقہ ہے۔ پاکستانی فوجی حکام کے مطابق یہاں کیے جانے والے آپریشن کا مقصد اورکزئی، شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی کی وادی تیرہ میں موجود عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کو روکنا ہے تاکہ انھیں افغانستان میں داخل ہونے سے روکا جاسکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کرم ایجنسی میں اغواء اور تشدد کی دوسری وارداتوں میں بھی یہی طالبان دہشت گرد ملوث ہیں ۔

XS
SM
MD
LG