رسائی کے لنکس

پاکستان افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے والا سب سے بڑا ملک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین "یو این ایچ سی آر" کی طرف سے پاکستان سے افغان مہاجرین کی رضا کارانہ طور پر وطن واپسی کا سلسلہ جاری ہے جس میں ان افراد کو مراعات بھی دی جا رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین ’یو این ایچ سی آر‘ کے مطابق پاکستان غیر ملکی شہریوں کو پناہ دینے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے، جہاں پناہ گزیں افراد کی تعداد 15 لاکھ سے زائد ہے جب کہ حکام کے بقول یہاں اتنی ہی تعداد میں افغان پناہ گزین بغیر اندراج یا قانونی دستاویزات کے بغیر مقیم ہیں۔

’یو این ایچ سی آر‘ کے مطابق ترکی سب سے بڑا ملک ہے جہاں تقریباً 16 لاکھ شامی پناہ گزین مقیم ہیں۔

پاکستان میں منگل کو پناہ گزینوں کے عالمی دن کی مناسبت سے دن منایا گیا جس کا مقصد ایک طویل عرصے سے یہاں مقیم پناہ گزینوں کی صورتحال کی طرف توجہ مبذول کروانا تھا۔

دنیا بھر میں یہ دن ہر سال 20 جون کو منایا جاتا ہے لیکن اسی ہفتے ماہ رمضان شروع ہونے کی وجہ سے پاکستان میں یہ دن منگل کو منانے کا فیصلہ کیا گیا۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین "یو این ایچ سی آر" کی طرف سےپاکستان سے افغان مہاجرین کی رضا کارانہ طور پر وطن واپسی کا سلسلہ جاری ہے جس میں ان افراد کو مراعات بھی دی جا رہی ہیں۔

ادارے کی پاکستان میں ترجمان دنیا اسلم خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ رواں سال اب تک 40 ہزار سے زائد افغان رضا کارانہ طور پر اپنے وطن واپس جا چکے ہیں۔

تقریباً 36 سال قبل افغانستان میں روس کی مداخلت کے بعد وہاں سے لاکھوں کی تعداد میں افغان شہریوں نے پاکستان میں پناہ لی اور یہ ملک تقریباً تین دہائیوں سے زائد عرصے تک ان کی میزبانی کرتا رہا ہے۔

تاہم حالیہ برسوں میں مقامی آبادی کی طرف سے افغان پناہ گزینوں سے متعلق بہت سے شکایات بھی سامنے آتی رہیں جس کے بعد ان کے کوائف جمع کر کے انھیں یہاں رہنے کی اجازت دینے کا عمل شروع کیا گیا۔

سرحدی امور کے وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ کہتے ہیں کہ پاکستان یو این ایچ سی آر اور حکومت افغانستان کے ساتھ مل کر افغان پناہ گزینوں کی باعزت طریقے سے وطن واپسی کے عزم پر قائم ہے۔

گزشتہ دسمبر میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد ایسی اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ حکام نے ملک میں موجود افغان پناہ گزینوں کے خلاف بھی کارروائی کی جس کی وجہ سے ہزاروں افراد افغانستان واپس چلے گئے تھے۔

تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ایسے افغان پناہ گزینوں کے خلاف کی گئیں جو یا تو غیر قانونی طور پر مقیم تھے یا پھر وہ کسی نہ کسی شر پسند کارروائی میں مشتبہ طور پر ملوث یا معاون تھے۔

XS
SM
MD
LG