رسائی کے لنکس

بعض افغان پناہ گزین کیمپ ’سلامتی کے لیے خطرہ ہیں‘: پاکستان


فائل فوٹو

فائل فوٹو

’یو این ایچ سی آر‘‘ کے ہائی کمشنر فلیپو گرانڈی نے کہا کہ ’’میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مہاجرین عدم تحفظ کا سبب نہیں ہیں بلکہ عدم تحفظ (کے حالات ) کے سبب لوگ مہاجرین بنتے ہیں۔‘‘

پاکستان گزشتہ 30 سال سے زائد عرصے سے افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے والا ایک بڑا ملک ہے۔

لیکن حالیہ برسوں میں حکومتی عہدیدار اپنے متعدد بیانات میں یہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان افغان مہاجرین کی جلد وطن واپسی چاہتا ہے۔

جمعرات کو پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں افغان پناہ گزینوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان میں اب بھی 30 لاکھ افغان مہاجرین مقیم ہیں۔

’’کچھ (افغان) مہاجرین کیمپ سلامتی کے لیے خطرہ بن گئے ہیں، کیوں کہ دہشت گرد اور جنگجو ان کیمپوں کو اپنی پناہ گاہوں کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔‘‘

لیکن ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ ایسے پناہ گزین کیمپوں کی تعداد کتنی ہے اور یہ کہاں واقع ہیں۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں کی اکثریت کیمپوں کی بجائے ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں مقیم ہے۔

اُدھر پاکستان کا دورہ کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین یعنی ’’یو این ایچ سی آر‘‘ کے ہائی کمشنر فلیپو گرانڈی نے بدھ کو اسلام آباد میں ایک مباحثے کے دوران پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ’’سلامتی کے خطرات اور مہاجرین کے درمیان جہاں تک تعلق کی بات ہے تو میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مہاجرین عدم تحفظ کا سبب نہیں ہیں بلکہ عدم تحفظ (کے حالات ) کے سبب لوگ مہاجرین بنتے ہیں۔‘‘

اُن کا کہنا تھا کہ سلامتی کے خدشات کے سبب پیدا ہونے والی صورت حال سے کئی مرتبہ خود افغان پناہ گزین بھی متاثر ہوتے ہیں۔

’یو این ایچ سی آر‘ کے پاکستان میں عہدیداروں کی طرف سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کہیں بھی ہو سکتے ہیں اس لیے کچھ افراد کی غیر قانونی حرکات کی بنیاد پر تمام افغان پناہ گزینوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنا درست نہیں۔

پاکستان میں اس وقت 15 لاکھ اندراج شدہ افغان پناہ گزین ہیں جب کہ حکام کے مطابق اتنی ہی تعداد میں افغان بغیر کوائف کے اندراج کے رہ رہے ہیں۔

دسمبر 2014ء میں پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان کی طرف سے یہ کہا گیا تھا کہ ملک میں غیر اندراج شدہ افغان پناہ گزینوں کے کوائف جمع کیے جائیں گے لیکن یہ عمل تاحال شروع نہیں ہو سکا ہے۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے جمعرات کو ایک مرتبہ پھر حکومت کے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ یہ اہم ہے کہ افغان حکومت مہاجرین کی جلد واپسی کے لیے اقدامات کرے۔

افغان حکام کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ کابل حکومت بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ پناہ گزین اپنے وطن واپس آ سکیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے ہائی کمشنر فلیپو گرانڈی بھی کہتے ہیں کہ افغانستان میں سلامتی کی خراب صورت حال پناہ گزینوں کی واپسی کی راہ میں ایک رکاوٹ ہے۔

’’اہم چیلنج واضح طور پر دو ہیں، ایک تو افغانستان میں عدم تحفظ ہے اور دوسرا افغانستان میں ترقی کے مواقع کا فقدان ہے۔‘‘

پاکستان میں یو این ایچ سی آر کی ترجمان دنیا اسلم خان بھی کہہ چکی ہیں کہ افغانستان میں سلامتی کی خراب صورت حال کے علاوہ وہاں تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی کے سبب افغانستان واپس جانے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں مسلسل کمی آئی ہے۔

دریں اثناء اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے ایک بیان کے مطابق افغانستان واپس جانے والے 60 ہزار پناہ گزینوں کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں، لیکن اس سال صرف چھ ہزار پناہ گزین ہی افغانستان واپس گئے ہیں۔

پاکستان سے واپس افغانستان جانے والے ہر پناہ گزین کو خرچ کے لیے 200 ڈالر دیئے جاتے ہیں۔

’یو این ایچ سی آر‘ کے ہائی کمشنر فلیپو گرانڈی نے جمعرات کو پشاور میں افغان مہاجرین سے ملاقات میں کہا کہ وہ مہاجرین کے تحفظات سے آگاہ ہیں کہ آبائی وطن واپس جانے والے افغان پناہ گزین کے لیے 200 ڈالر کی رقم ناکافی ہے۔

XS
SM
MD
LG