رسائی کے لنکس

پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی معیاد 30 دسمبر 2012ء کو ختم ہو رہی تھی۔

پاکستان کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے ملک میں مقیم افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کی معیاد میں 6 ماہ کی توسیع کا حکم جاری کیا ہے، اُن کی وطن واپسی کی مدت 30 دسمبر 2012ء کو ختم ہو رہی تھی۔

بدھ کو جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم اشرف نے یہ فیصلہ پناہ گزینوں کی افغانستان واپسی کے بارے میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا جس کے تحت پاکستان، افغانستان اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین ’یو این ایچ سی آر‘ کے مابین سہ فریقی معاہدے میں چھ ماہ کی توسیع کی گئی۔

وزیراعظم نے سرحدی اُمور کے وزیر انجینیئر شوکت اللہ کی سربراہی میں افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کی نگرانی کرنے کے لیے ایک کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ 2012ء کے آخر تک دو لاکھ پناہ گزین افغانستان واپس جا سکیں گے جب کہ 16 لاکھ رجسٹرڈ اور دس لاکھ غیر اندراج شدہ افغان پناہ گزین اس وقت بھی پاکستان میں موجود ہیں۔

پاکستانی حکام یہ کہہ چکے ہیں کہ گزشتہ تین دہائیوں سے افغانوں کی میزبانی کر کے حکومت اور پاکستان کے عوام نے جو نیک نامی کمائی ہے اسے ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا۔

گزشتہ ہفتے وفاقی وزیر شوکت اللہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا تھا کہ حکومت افغانوں کی رضاکارانہ اور باعزت وطن واپسی چاہتی ہے۔

پاکستان میں یو این ایچ سی آر کے سربراہ نیل رائٹس بھی یہ کہہ چکے ہیں وطن واپسی پر رضامند پناہ گزینوں کو ان کے ادارے کی طرف سے دی جانے والی روز مرہ استعمال کی اشیا میں اضافے کے بعد واپسی کے عمل میں تیزی آئی ہے۔

لیکن یواین ایچ سی آر کی ایک تازہ جائزہ رپورٹ کے مطابق اب بھی تقریباً 82 فیصد افغان پناہ گزین اپنے ملک جانے پر رضا مند نہیں۔

نیل رائٹس کا کہنا تھا کہ افغانستان واپس جا کر رہائش اور روزگار کے حصول جیسے خدشات ان پناہ گزینوں کی وطن واپسی میں عدم دلچسپی کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG