رسائی کے لنکس

افغان پناہ گزینوں کو ہراساں نہ کیا جائے: ہیومن رائٹس واچ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

انسانی حقوق کی ایک موقر بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے ہاں مقیم افغان پناہ گزینوں کو ہراساں کیے جانے سے روکے اور انھیں زبردستی بے دخل نہ کیا جائے۔

پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور میں گزشتہ دسمبر میں ایک اسکول پر ہونے والے ہلاکت خیز حملے کے بعد ملک میں جہاں ایک طرف شدت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں تیزی آئی وہیں غیر قانونی طور پر مقیم افغان پناہ گزینوں کے خلاف بھی تادیبی اقدامات نے زور پکڑا ہے۔

اس بنا پر گزشتہ دو ماہ میں ہزاروں افغان پناہ گزینوں کی اپنے وطن واپس چلے جانے کی خبریں منظر عام پر آچکی ہیں جبکہ اکثر مقامی حکام کی طرف سے ہراساں کیے جانے کی شکایت کرتے بھی نظر آتے ہیں۔

انسانی حقوق کی ایک موقر بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے ہاں مقیم افغان پناہ گزینوں کو ہراساں کیے جانے سے روکے اور انھیں زبردستی بے دخل نہ کیا جائے۔

ایک تازہ بیان میں ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ طالبان شدت پسندوں کی کارروائیوں کے تناظر میں افغان پناہ گزینوں کو "قربانی کا بکرا" نہیں بنایا جانا چاہیئے اور انھیں زبردستی ایسے حالات میں افغانستان جانے کے لیے ہراساں نہیں کیا جانا چاہیئے جہاں ان کی زندگیوں کو مزید خطرات لاحق ہوں۔

تاہم پاکستانی عہدیدار یہ کہتے آئے ہیں کہ وہ اپنی روایتی مہمان نوازی اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کا پاس رکھتے ہوئے پناہ گزینوں کے خلاف کسی زور زبردستی کا رویہ نہیں اپنا رہے اور صرف ایسے پناہ گزینوں کے خلاف قانونی کارروائی کر رہے ہیں جو بغیر اندراج کے پاکستان میں مقیم ہیں۔

پاکستان میں عہدیداروں کے مطابق تقریباً 16 لاکھ سے زائد اندراج شدہ پناہ گزین رواں سال کے آخر تک یہاں رہنے کے اہل ہیں جب کہ اتنی ہی تعداد میں بغیر قانونی دستاویزات کے افغان باشندے ملک کے مختلف علاقوں میں مقیم ہیں جن کا شر پسند عناصر کا آلہ کار بننے کے خدشات بہر حال موجود ہیں لہذا ان کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔

افغان پناہ گزین

افغان پناہ گزین

سینیئر تجزیہ کار پروفیسر اے زیڈ ہلالی کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں اس طرح کے پناہ گزینوں کے لیے مخصوص مقامات ہوتے ہیں اور ان کے مخصوص حقوق ہوتے ہیں جب کہ پاکستان میں افغان پناہ گزین جہاں ایک طرف تو پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں تو دوسری جانب ان کی وجہ سے پاکستان کی سماجی اور معاشی زندگی پر بھی ایک طرح کا بوجھ ہیں جس سے متاثر ہونے والی آبادی بھی اب ان کی اپنے وطن واپسی کے مطالبات کرتی نظر آتی ہے۔

اسلام آباد میں افغان سفارتخانے میں پناہ گزینوں کے امور کے اتاشی مصری خان مہمند نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ افغان پناہ گزینوں کو ہراساں کیے جانے کی اطلاعات پر انھیں بھی تشویش ہے اور اس سلسلے میں آئندہ ماہ اعلیٰ افغان عہدیدار پاکستانی حکام سے ملاقات کے لیے پاکستان کا دورہ بھی کریں گے۔

"میں نے اس بارے میں کئی بار آواز اٹھائی ہے کہ اس طرح کا سلوک واقعی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور اس سلسلے میں افغانستان کے وزیر برائے مہاجرین اگلے مہینے پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں اور پاکستانی عہدیداروں سے بات ہو گی اور کوشش کریں گے پاکستان میں بسنے والے افغان پناہ گزینوں کی مشکلات کو کم کر سکیں۔"

وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان حال ہی میں یہ کہہ چکے ہیں کہ افغان پناہ گزینوں کو ان کے لیے مخصوص کیمپوں تک محدود کرنے اور انھیں دیگر آبادیوں سے علیحدہ رکھنے کے لیے انتظامات کیے جائیں گے۔

XS
SM
MD
LG