رسائی کے لنکس

مہاجرین کی واپسی کے لیے افغانستان میں موافق ماحول ناگزیر ہے: سرتاج عزیز

  • عشرت سلیم

فائل فوٹو

فائل فوٹو

پاکستان میں لگ بھگ 16 لاکھ اندراج شدہ افغان پناہ گزین مقیم ہیں جبکہ اتنی ہی تعداد میں افغان پناہ گزین غیرقانونی طور پر پاکستان کے مختلف علاقوں میں آباد ہیں۔

پاکستان کے وزیرِاعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی و خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ افغانستان میں حالات سازگار بنانے کی ضرورت ہے تاکہ افغان مہاجرین کی اپنے وطن واپسی کی حوصلہ افزائی ہو۔

یہ بات انہوں نے اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین انتونیو گوٹریس سے ایک ملاقات میں کہی۔ انتونیو گوٹریس رمضان کے موقع پر مہاجرین سے اظہار یکجہتی کے لیے پاکستان کے تین روزہ دورے پر ہیں۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کو عالمی برادری کے تعاون سے ملک میں حالات سازگار بنانے میں افغان حکومت کی مدد کرنی چاہیئے جس کے ذریعے وطن واپس پہنچنے والے افغان مہاجرین خود کو محفوظ سمجھتے ہوئے معاشرے میں فعال کردار ادا کر سکیں۔

اس ضمن میں دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ افغانستان لوٹنے والے مہاجرین کو معاشرے میں دوبارہ ضم کرنے کی سرگرمیوں کے لیے امدادی اداروں اور ممالک کی جانب سے فوری اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔

بعد ازاں اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے سربراہ نے وزیرِ اعظم نواز شریف سے بھی ملاقات کی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغان مہاجرین کی میزبانی ایک مقدس فریضہ سمجھ کر کی اور ان کی باعزت وطن واپسی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے ریاست و سرحدی امور لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ افغان حکومت پناہ گزینوں کی واپسی سے قبل یہ چاہتی ہے کہ وہاں ان کے لیے پائیدار بنیادوں پر روزگار، رہائش، تعلیم اور صحت کی سہولتوں کا انتظام ہو۔

تاہم پاکستان کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مختلف حلقوں کی جانب سے افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے مطالبات تواتر سے سامنے آ رہے ہیں، مگر پاکستان ان کی باعزت وطن واپسی کے عزم پر قائم ہے۔

’’ہم نے اقوامِ متحدہ سے وعدہ کیا ہے کہ ہم ان کو عزت اور وقار کے ساتھ رضاکارانہ طور پر وطن واپس بھیجیں گے، ان سے زبردستی نہیں کی جائے گی۔ یہ ایک ایسی شرط ہے جو ہم نے قبول کی ہے، جس پر ہم قائم ہیں۔ ہم نے 35 سال ان کی مہمان داری کی ہے، اور آخر میں ہم کوئی ایسی کارروائی نہیں کرنا چاہتے جس سے ایسا لگے کہ ہم نے حق مہمان داری صحیح طرح سے ادا نہیں کیا۔‘‘

پاکستان میں لگ بھگ 16 لاکھ اندراج شدہ افغان پناہ گزین مقیم ہیں جبکہ اتنی ہی تعداد میں افغان پناہ گزین غیر قانونی طور پر پاکستان کے مختلف علاقوں میں آباد ہیں۔

گزشتہ برس دسمبر میں پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد ملک میں دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کا آغاز کیا گیا اور اس دوران غیر اندراج شدہ افغان باشندوں کا معاملہ زیرِ غور رہا ہے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مقیم غیر اندراج شدہ افغان باشندوں کے کوائف کے اندراج کے لیے متعلقہ حکام اور افغان عہدیداروں کے ساتھ مل کر مناسب اور قابل عمل طریقہ کار وضع کیا جا رہا ہے اور ان کی واپسی کے لیے ایک جامع حکمت عملی بنائی جا رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG