رسائی کے لنکس

افغان پناہ گزینوں کو واپسی کے لیے مزید مہلت دینے کی تجویز


فائل فوٹو

فائل فوٹو

سیاسی جماعتوں اور حکومت کے نمائندوں کے اجلاس میں جن سفارشات پر اتفاق کیا گیا انھیں اب حتمی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔

پاکستان میں تین دہائیوں سے زائد عرصے سے مقیم افغان پناہ گزینوں کی اُن کے اپنے ملک واپسی سے متعلق ایک متفقہ لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے پیر کو اسلام آباد میں سیاسی جماعتوں کے راہنماؤں کا ایک مشاورتی اجلاس ہوا۔

اس اجلاس کی میزبانی وفاقی وزارت برائے سرحدی اُمور نے کی۔

واضح رہے کہ یہ وزارت افغان مہاجرین سے متعلق اُمور کی ذمہ دار ہے۔

شرکاء کی طرف سے یہ تجویز دی گئی کہ افغان مہاجرین کے پاکستان میں قیام کی مدت میں دسمبر 2017ء تک توسیع کی جائے تاکہ وہ اپنے ملک باآسانی واپس جا سکیں جب کہ اجلاس میں یہ تجویز دی گئی کہ غیر اندراج شدہ افغان پناہ گزینوں کے کوائف کا اندارج کیا جائے۔

لیکن ان سفارشات کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ ہی دے گی۔

اجلاس میں صوبہ خیبر پختونخواہ کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک بھی شریک تھے۔

اُنھوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں لاکھوں ایسے افغان پناہ گزین ہیں جن کے کوائف کا اندراج نہیں ہے۔

’’ہمارا جو اصل مسئلہ تھا وہ غیر اندراج شدہ افغانیوں کا تھا ۔۔۔ میرے صوبے میں لاکھوں لوگ بغیر کاغذ کے پھر رہے ہیں تو میں کس طرح ان کو برداشت کروں۔۔۔ تو میں نے ان کو یہی درخواست کی تھی ان کا اندراج کریں تاکہ جب یہ جائیں تو ان غریبوں کو پیسہ بھی مل جائے گا اور بخوشی اپنے ملک جائیں گے۔‘‘

پرویز خٹک نے کہا کہ افغان مہاجرین کو واپسی کے لیے مہلت میں توسیع کی جائے لیکن اُن کے بقول یہ زیادہ طویل عرصے کے لیے نہیں ہونی چاہیئے۔

’’کیوں کہ وہ خود جانے لگ گئے ہیں ابھی ایک سسٹم بن چکا ہے ہو سکتا ہے کہ سال کے بعد ایسی پوزیشن نا ہو تو ہم نے کہا ہے کہ ان کو بے شک توسیع دیں لیکن لمبی توسیع نا دیں اور حتمی وقت کے اندر ان کو واپس جانا چاہیئے کہ ہمارا ملک ہے ان کا اپنا ملک ہے ہمیں بڑی خوشی ہو گی کہ وہ اپنے ملک میں آباد ہو جائیں۔‘‘

وفاقی سیکرٹری برائے وزارت سرحدی اُمور محمد شہزاد ارباب نے اجلاس کے بعد بتایا کہ سیاسی جماعتوں نے تجاویز دی ہیں کہ افغان پناہ گزینوں، افغان طالب علموں، مریضوں اور کاروبار سے وابستہ افغانوں کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے اُن کی سہولت کے لیے پالیسی بنائی جانی چاہیئے۔

’’سیاسی جماعتوں نے تجویز کیا تھا کہ ان پناہ گزینوں کو درجوں میں تقسیم کریں سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک نا کریں مثلاً طالب علموں کے لیے ایک مختلف قسم کا ویزا ہونا چاہیئے، اس طرح جن لوگوں نے یہاں پر سرمایہ کاری کی ہے ان کے لیے کچھ مراعات ہونی چاہیئں جو یہاں شادیاں ہوئی ہیں ان سے علیحدہ قسم کا برتاؤ کرنا چاہیئے اور ان کو مزید مراعات دینی چاہیئں اور خاص طور پر جو صحت کے حوالے سے لوگ آتے ہیں اس کے لیے بھی آل پارٹیز کانفرنس نے یہ سفارش دی گئی ہے کہ ان کو سرحد پر ویزا دیں تاکہ ان کے لیے آسانی ہو۔‘‘

وفاقی وزیر برائے سرحد اُمور عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ حکومت یہ نہیں چاہتی کہ کسی بھی افغان کو زبردستی اُن کے ملک واپس بھیجا جائے۔

سابق وزیر داخلہ اور قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیر پاؤ بھی اس اجلاس میں شریک تھے۔ اُنھوں نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ سیاسی جماعتوں نے یہ تجویز دی ہے کہ پناہ گزینوں کو واپسی کے لیے متعین کردہ مہلت میں مناسب توسیع کی جائے۔

رواں سال پاکستان سے افغانستان واپس جانے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا۔

ملک میں سرکاری اندازوں کے مطابق لگ بھگ 15 لاکھ افغان پناہ گزین باقاعدہ اندراج کے ساتھ جب کہ تقریباً 10 لاکھ بغیر کسی قانونی دستاویز کے پاکستان کے مختلف علاقوں میں رہ رہے ہیں۔

پاکستانی حکومت نے اندراج شدہ افغان پناہ گزینوں کے پاکستان میں قیام کی مدت میں 31 مارچ 2017ء تک توسیع کر رکھی ہے تاہم غیر اندراج شدہ افغانوں کے حوالے سے کوئی واضح پالیسی تاحال سامنے نہیں آئی ہے۔

XS
SM
MD
LG