رسائی کے لنکس

معروف افغان خاتون ’شربت بی بی‘ کا پاکستانی شناختی کارڈ منسوخ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

رواں ہفتے پاکستانی اخبارات میں خبریں شائع ہوئیں کہ شربت بی بی اور اُن کے دو بیٹوں ولی خان اور رؤف خان کو گزشتہ سال پاکستان کے قومی شناختی کارڈ جاری کیے گئے۔

پاکستان میں شہریوں کے کوائف کا اندارج کرنے والے قومی ادارے ’نادرا‘ کے ایک عہدیدار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ افغان خاتون شربت بی بی اور اُس کے دو بیٹوں کو جاری کردہ پاکستانی شناختی کارڈ منسوخ کر دیا گیا ہے۔

جب کہ اُنھیں پاکستانی قومی شناختی کارڈ جاری کرنے پر محکمہ کے دو عہدیداروں کے خلاف محکمانہ تحقیقات بھی جاری ہیں۔

شربت بی بی کی ایک تصویر 1984 میں نیشنل جیوگرافک رسالے میں اُس وقت شائع کی تھی جب وہ پشاور میں قائم افغان مہاجر کیمپ میں مقیم تھی۔ اُس وقت شربت بی بی کی عمر 12 سال تھی۔

اُن کی یہ تصویر بہت مشہور ہوئی، لیکن وہ ایک مرتبہ پھر خبروں میں آئیں جب اُنھیں 2002ء میں نیشنل جیوگرافک نے تلاش کیا۔

رواں ہفتے پاکستانی اخبارات میں خبریں شائع ہوئیں کہ شربت بی بی اور اُن کے دو بیٹوں ولی خان اور رؤف خان کو گزشتہ سال پاکستان کے قومی شناختی کارڈ جاری کیے گئے۔

ان اطلاعات کے بعد پاکستانی ادارے ’نادرا‘ نے چھان بین شروع کرنے کے بعد اُن کے کارڈ منسوخ کر دیئے۔ اطلاعات کے مطابق شربت بی بی اور اُن کے دو بیٹوں نے پہلے سے حاصل کردہ غیر قانونی پاکستانی شناختی کارڈز کی تجدید کے لیے گزشتہ سال نادرا میں درخواست دائر کی تھی۔

شربت بی بی کا شمار ان افغان پناہ گزینوں میں ہوتا ہے جنہوں نے 1980 کی دہائی میں افغانستان میں لڑائی کے بعد پاکستان کی سکونت اختیار کی۔

پاکستان میں آمد کے بعد شربت بی بی نے پشاور میں ناصر باغ میں قائم پناہ گزینوں کے کیمپ میں رہائش اختیار کی جہاں 1984 میں نیشنل جیوگرافک کے ایک فوٹو گرافر نے اُن کی تصویر لی تھی جو اس رسالے کہ صفحہ اول پر شائع ہوئی تھی۔

نادرا کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ادارے نے شربت بی بی اور اُن کے دو بیٹوں کے افغان شہری ہوتے ہوئے پاکستانی شناختی کارڈ کے اجرا پر دو عہدیداروں کے خلاف انکوائری کا حکم دیا گیا ہے، جنہوں نے مبینہ طور پر یہ شناختی کارڈز جاری کیے تھے۔

پاکستان میں پندرہ لاکھ سے زائد افغان مہاجرین قانونی طور پر جب کہ لگ بھگ اتنے ہی غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔

پاکستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث افغان مہاجرین کو واپس افغانستان بھیجے کے مطالبات میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین 2015 کے اواخر تک پاکستان میں رہنے کے مجاز ہیں۔

XS
SM
MD
LG