رسائی کے لنکس

پاک افغان مشترکہ کمیشن کے قیام پر اتفاق


پاک افغان مشترکہ کمیشن کے قیام پر اتفاق

پاک افغان مشترکہ کمیشن کے قیام پر اتفاق

مشترکہ کمیشن دو سطحوں پر کام کرے گا جس میں اعلیٰ سطحی گروپ میں دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت اور وزرائے خارجہ کے علاوہ فوج اور انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان شامل ہوں گے جب کہ دوسری سطح پر دونوں ممالک کی خارجہ وزارتوں ، فوج اور انٹیلی جنس اداروں کے اعلیٰ عہدیدار مل کر کام کریں گے۔

وزیراعظم گیلانی نے فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی، انٹیلی جنس ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا اور اپنی کابینہ کے کچھ وزراء کے ہمراہ ہفتہ کو کابل کا ایک روزہ دورہ کیا جہاں اُنھوں نے افغان صدر حامد کرزئی اور اُن کے وفد کے ساتھ ملاقات کے علاوہ اعلیٰ سطحی افغان امن کونسل کے سربراہ برہان الدین ربانی سے بھی علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔ گذشتہ چار ماہ کے دوران اُن کا افغانستان کا یہ دوسرا دورہ تھاجس کی دعوت اُنھیں افغان صدر حامد کرزئی نے دی تھی۔

دوطرفہ تفصیلی بات چیت کے بعدافغان صدر حامد کرزئی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ دونوں ممالک نے مشترکہ کمیشن بنانے پراتفاق کیا ہے جس کا مقصد خطے میں مصالحت کے فروغ اور امن کی کوششوں کو تیز کر نا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ مشترکہ کمیشن دو سطحوں پر کام کرے گا جس میں اعلیٰ سطحی گروپ میں دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت اور وزرائے خارجہ کے علاوہ فوج اور انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان شامل ہوں گے جب کہ دوسری سطح پر دونوں ممالک کی خارجہ وزارتوں ، فوج اور انٹیلی جنس اداروں کے اعلیٰ عہدیدار مل کر کام کریں گے۔

وزیراعظم گیلانی نے افغان صدر کو یقین دلایا کہ اُن کا ملک افغانوں کی زیرقیادت مصالحتی اور امن کے عمل میں بھرپورتعاون کر ے گا۔

افغان صدر حامد کرزئی اور وزیراعظم گیلانی نے واضح کیا کہ قیام امن کے لیے طالبان کے ساتھ مصالحتی عمل میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون پر امریکہ کو بھی اعتماد میں لیا گیا ہے۔

افغان صدر حامد کرزئی نے اس موقع پر کہا کہ شدت پسندی ترک کرنے پر آمادہ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے ۔ اُنھوں نے افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کوسراہاااور کہا کہ علاقائی استحکام کے لیے دوطرفہ قریبی تعاون ضروری ہے ۔

وزیراعظم گیلانی نے ایک سوال کے جواب میں اس تاثر کو ردکیا کہ پاکستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گا ہ ہے اور کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ پاکستان سے شدت پسندافغانستان میں داخل ہوتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ مستحکم افغانستان خطے کے مفاد میں ہے جس کے لیے مشترکہ کوششیں کی جارہی ہیں۔

افغان حکام کے ساتھ ملاقات میں پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے پر عمل درآمد کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے سمیت اقتصادی روابط کو فروغ دینے پر بھی بات چیت ہوئی ۔

اقتصادی روابط کے فروغ کے لیے جولائی 2010ء میں دونوں ممالک کے درمیان پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ ہوا تھا جس پر رواں سال کے اوائل میں عمل درآمد شروع ہوناتھا لیکن بعض تکنیکی وجوہات کی بنا پر اسے جون تک موخر کرنا پڑا لیکن پاکستان کے وزیرتجارت امین فہیم کا کہنا ہے کہ توقع ہے کہ تمام معاملات جون تک طے پا جائیں گے۔

پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی اور سابق وفاقی وزیر نجم الدین خان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں مقامی فورسز جب تک سلامتی کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے خود قابل نہیں ہو جاتیں افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کے خطے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ”افغان فورسز جب اپنے پاؤں پر کھڑی ہوجائیں تو اُس وقت وہ (غیر ملکی افواج) افواج نکل جائیں تو پھر کوئی بات نہیں “۔

مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی احسن اقبال نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ علاقائی مسائل بالخصوص دہشت گردی کے خلاف کوششوں کے لیے پاکستان اور افغانستان کو مشترکہ حکمت عملی بناناہوگی ۔ ”جب تک افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں امن قائم نہیں ہوگا اُس کا نقصان دونوں ممالک کو ہوگا“۔

XS
SM
MD
LG