رسائی کے لنکس

افغانستان ملا فضل اللہ کو پاکستان کے حوالے کرے: سینیٹ کمیٹی


ملا فضل اللہ (فائل فوٹو)

ملا فضل اللہ (فائل فوٹو)

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اُمور داخلہ کے چیئرمین رحمٰن ملک نے کہا کہ اس سلسلے میں افغان حکومت کو پاکستان سے بھرپور تعاون کرنا چاہیئے۔

پاکستان کے ایوان بالا یعنی ’سینیٹ‘ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے افغانستان کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شدت پسند کمانڈر ملا فضل اللہ کو پاکستان کے حوالے کرے۔

پاکستان کے عسکری کمانڈر یہ کہتے رہے ہیں کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا سربراہ ملا فضل اللہ افغانستان میں روپوش ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اُمور داخلہ کے چیئرمین رحمٰن ملک نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ جمعرات کو کمیٹی کے اجلاس میں متفقہ طور پر افغان حکومت سے ملا فضل اللہ کی حوالگی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

​واضح رہے کہ پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی اور اس بارے میں ملا فضل اللہ نے ایک وڈیو پیغام بھی جاری کیا تھا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اُمور داخلہ کے چیئرمین رحمٰن ملک نے کہا کہ اس سلسلے میں افغان حکومت کو پاکستان سے بھرپور تعاون کرنا چاہیئے۔

حال ہی میں امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے ملا فضل اللہ کو عالمی دہشت گرد قرار دیا گیا جب کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کمیٹی بھی ملا فضل اللہ کو ان افراد کی فہرست میں شاملکر چکی ہے جن پر بین الاقوامی پابندیاں عائد ہوتی ہیں۔

2013ء میں حکیم اللہ محسود کی ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد فضل اللہ کو تحریک طالبان پاکستان کا سربراہ چنا گیا تھا۔

ملا فضل اللہ کی واپسی کے لیے پاکستانی حکومت بھی افغان قیادت سے بات چیت کر چکی ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں حالیہ مہینوں میں بہتری آئی ہے۔

رواں ماہ ہی پاکستانی فوج کے ترجمان نے ایک بیان میں بتایا تھا کہ پاکستانی فوج کے انٹیلی جنس ادارے ’آئی ایس آئی‘ اور افغانستان کے خفیہ ادارے ’نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی‘ کے درمیان مفاہمت کی ایک یاداشت پر دستخط کیے گئے ہیں جس کے تحت دونوں ممالک کے انٹیلی جنس ادارے دہشت گردوں سے متعلق خفیہ معلومات کے تبادلے کے علاوہ اپنی اپنی سرزمین پر عسکریت پسندوں کے خلاف مربوط کارروائیوں کے لیے بھی تعاون کریں گے۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے رواں ماہ اپنے دورہ کابل کے دوران افغان صدر اشرف غنی کو یہ یقین دہانی کروائی ہے کہ افغانستان کے دشمن پاکستان کے دوست نہیں ہو سکتے۔

XS
SM
MD
LG