رسائی کے لنکس

افغانستان سے سرحدوں کی نگرانی موثر بنانے کا مطالبہ


وزیر داخلہ رحمن ملک (فائل فوٹو)

وزیر داخلہ رحمن ملک (فائل فوٹو)

پاکستان نے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان میں موجود شدت پسندوں کو قبائلی علاقوں میں حملے کرنے سے روکنے کے لیے افغان اور اتحادی افواج اپنی جانب سرحدوں کی نگرانی کے نظام کو موثر بنائیں۔

اتوار کو سرکاری ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے دعویٰ کیا کہ باجوڑ اور مہمند کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے تازہ واقعات میں ملوث شدت پسند افغانستان کے مشرقی صوبے کنڑ سے پاکستان میں داخل ہوئے تھے جو ایک تشویش ناک صورت حال ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ اِن قبائلی علاقوں سے پاکستانی فوج نے عسکریت پسندوں کا صفایا کردیا تھا لیکن اس نئی صورت حال نے علاقے کے امن واستحکام کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

پاکستانی وزیر داخلہ نے کہا کہ اُن کا ملک دہشت گردی کے خاتمے کے لیے افغانستان سے مکمل تعاون کر رہا ہے اور اس نئی صورت حال کا تقاضا ہے کہ افغان حکومت بھی خفیہ معلومات کے تبادلے اور دو طرفہ تعاون کو بہتر کرتے ہوئے پاکستان کی اس سلسلے میں مدد کرے۔

گذشتہ جمعہ کو افغان سرحد سے ملحقہ مہمند ایجنسی کی تحصیل یکہ غنڈ میں طاقتور خودکش حملے میں ایک سو پانچ سے زائد افراد ہلاک اور 100 کے لگ بھگ زخمی ہو گئے تھے۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کا کہنا ہے کہ سرحد پر ہونے والی دراندازی سے افغان اور اتحادی افواج کو آگاہ کیا جا چکا ہے۔ اُن کے بقول عسکریت پسند تشدد کی کارروائیاں کرنے کے بعد افغانستان واپس چلے جاتے ہیں اس لیے اُنھیں پکڑنا یا مارنا پاکستان کے اختیار میں نہیں۔

XS
SM
MD
LG