رسائی کے لنکس

پاکستان: افغان شہریوں کی ہلاکت ’’انتہائی قابل مذمت‘‘


پاکستان اور سویڈن کے وزرائے خارجہ کی اسلام آباد میں پریس کانفرنس

پاکستان اور سویڈن کے وزرائے خارجہ کی اسلام آباد میں پریس کانفرنس

پاکستان نےامریکی فوجی کے ہاتھوں 16 افغان شہریوں کےقتل کو’’انتہائی قابل مذمت‘‘ واقعہ قرار دیتے ہوئے اس میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانےکا مطالبہ کیا ہے۔

بدھ کو اسلام آباد میں سویڈن کے اپنے ہم منصب کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا اس واقعہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے کیونکہ افغانستان میں فوجی سرگرمیوں کی شرائط بالکل واضح ہیں اوراُن کا احترام سب پر لازم ہے۔

’’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اپنی نوعیت کا ایک الگ واقعہ ہے لیکن اس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرنے کی ضرورت ہے۔ جو لوگ ذمہ دار ہیں یا پھر جو شخص اس میں ملوث ہے اُنھیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے تاکہ افغانستان میں شہریوں کو ایک واضح پیغام ملے کہ قوانین کا اطلاق سب پر ہوتا ہے۔‘‘

پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اس واقعہ کے بعد افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کے انخلا کے عمل میں تیزی آنی چاہیے یا نہیں اس کا فیصلہ خود افغانوں کو کرنا ہے اور پاکستان اس کی حمایت کرے گا۔

’’یہ فیصلہ افغان عوام اور افغان پارلیمان کو بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کرنا ہوگا اوراس سلسلے میں جو بھی وقت اُن کے خیال میں مناسب ہوگا ہم اُس کا احترام کریں گے۔‘‘

سویڈن کے وزیر خارجہ کارل بلٹ نے بھی امریکی فوجی کے ہاتھوں افغان شہریوں کی ہلاکت کو انتہائی افسوس ناک واقعہ قراردیا اور کہا کہ اس کے اصل حقائق جاننے کے لیے ہرممکن کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ اُنھوں نے اُمید ظاہر کی کہ اس کی وجہ سے افغانستان میں بین الاقوامی افواج کی حکمت عملی متاثر نہیں ہوگی۔

16 افغانوں کی ہلاکت کا واقعہ جنوبی صوبہ قندھار کے پنجوائی ضلع میں اتوار کو علی الصباح اُس وقت پیش آیا جب ایک امریکی فوجی نے اپنے اڈے سے باہر نکل کر قریب کی آبادی کے مکانات میں گھس کرشہریوں پر فائرنگ شروع کردی۔ اس حملے میں مرنے والوں میں نو بچے اور تین خواتین بھی شامل تھیں جبکہ پانچ افراد زخمی ہوئے۔

امریکی صدر براک اوباما نے اس واقعہ پر افغان حکومت اور عوام سے معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ اُنھیں اس پر دلی صدمہ ہوا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ میں ملوث فوجی کا یہ ذاتی فعل تھا جو کسی طور امریکی افواج کی پالیسی کی نمائندگی نہیں کرتا۔

افغان شہریوں کی ہلاکت کے خلاف افغانستان میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا بدھ کو افغانستان کے غیر اعلانیہ دورے پر پہنچے ہیں جہاں افغان رہنماؤںٕ کے ساتھ بات چیت میں دیگر اُمور کے علاوہ امریکی فوجی کے ہاتھوں شہریوں کی ہلاکت کا معاملہ موضوع گفتگو ہوگا۔

XS
SM
MD
LG