رسائی کے لنکس

افغانستان میں امن کے علاوہ کوئی ایجنڈا نہیں: حنا کھر


اسلام آباد میں حنا ربانی کھر کی اپنے جرمن ہم منصب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس
اسلام آباد میں حنا ربانی کھر کی اپنے جرمن ہم منصب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس

وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے جمعہ کو پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے اپنے جرمن ہم منصب کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک ایک مستحکم اور پر امن افغانستان کا خواہاں کیونکہ اس سے علاقائی استحکام کو بھی تقویت ملے گی۔

انھوں نے کہا کہ عمومی رجحان یہی ہے کہ افغانستان میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس کا ذمہ دار پاکستان ہے جبکہ اصل ذمہ داری افغان عوام پر عائد ہوتی ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اپنے ملک کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ افغان عوام اور صدر حامد کرزئی کو کرنا ہے جو ان دنوں کابل میں ایک قومی جرگے کے ذریعے سیاسی و قبائلی رہنماؤں کے ساتھ افغانستان کے مسائل پر بات چیت بھی کررہے ہیں۔

حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں کسی ’اینڈ گیم‘ میں ملوث نہیں ہے اور اس حوالے سےلگائے جانے والے الزامات میں کوئی صداقت نہیں۔

‘‘ ہمارا کوئی خفیہ ایجنڈا نہیں ہے اور نہ ہی خطے میں امن سے بڑھ کر ہماری کوئی خواہش ہے ایسی صورتحال میں پاکستان کے مفادات کے بارے میں قیاس آرائیاں درست نہیں ہیں۔’’

وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستان نہ تو افغانستان میں کسی خفیہ ایجنڈے اور نہ ہی اپنے مفادات کی جنگ لڑرہا ہے بلکہ وہ جنگ سے تباہ حال ملک میں امن وامان کے لیے اپنا وہی کردار ادا کرنا چاہتا جو وہاں پر امن وامان کو یقینی بنائے۔

ان کا کہنا تھا کہ دیگر ملکوں کے مقابلے میں پاکستان کا کردار اس لیے بھی زیادہ اہم ہے کیونکہ پاکستان کی افغانستان کے ساتھ ایک طویل مگر غیر محفوظ سرحد ہے اور وہاں ہونے والی ہر تبدیلی کا براہ راست اثر پاکستان پر ہوتا ہے۔ تاہم پاکستانی وزیر خارجہ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے ان کا ملک تبھی کوئی کردار ادا کرنے کو تیار ہوگا جب خود افغان عوام چاہیں گے۔

اس موقع پر جرمن وزیر خارجہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ افغانستان کے مشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے اتحادی ملک مل کر کوششیں جاری رکھیں گے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ دسمبر میں جرمنی کے شہر بون میں ہونے والے بین الاقوامی کانفرنس میں افغانستان کےلیے مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے میں مدد ملے گی۔

XS
SM
MD
LG