رسائی کے لنکس

پاک افغان سرحد کےقریب شدت پسندوں کے خلاف کارروائی جاری

  • شہناز نفیس

ہلری کلنٹن اور حامد کرزئی

ہلری کلنٹن اور حامد کرزئی

یہ آپریشن افغانستان کےصوبہٴ کنڑ سے لے کر ننگرہار، خوست، پکتیکا، پکتیا اور بعض مرکزی علاقوں، لوگر اور وردک صوبے میں ہورہا ہے: جنرل شیرمحمد کریمی

پاک افغان سرحد کے قریب امریکہ کے زیرِ قیادت اتحادی افواج کی جانب سے شدت پسندوں کے خلاف مسلسل کارروائی تقریباً ایک ہفتے سے جاری ہے۔اطلاعات کے مطابق، جاری فوجی کارروائیوں میں اب تک 115شدت پسند مارے جاچکے ہیں۔

افغان فوج کے چیف آف آرمی اسٹاف، جنرل شیر محمد کریمی نے وائس آف امریکہ کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ اس فوجی کارروائی کا ہدف حقانی نیٹ ورک ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ آپریشن سرحد کے اُس پار افغانستان کی سرزمین پر مشرقی اور جنوب مشرقی حصوں میں ہورہا ہے۔

اُن کے الفاظ میں، ’یہ آپریشن افغانستان کے صوبہٴ کنڑ سے لے کر ننگرہار، خوست، پکتیکا، پکتیا اور بعض مرکزی علاقوں، لوگر اور وردک صوبے میں ہورہا ہے‘۔

جنرل شیر محمد کریمی کا کہنا تھا کہ جِن علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف یہ لڑائی ہورہی ہے اُن کے اڈے سرحد کی دوسری طرف پاکستانی علاقے دیر، سوات، باجوڑ اور مہمند ایجنسی میں واقع ہیں۔

جنرل کریمی نے امید ظاہر کی کہ اس آپریشن کے بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔ تاہم، اُنھوں نے حقانی نیٹ ورک سے منسلک کسی کو حراست میں لینے یا ہلاک کیے جانے کے بارے میں کچھ نہیں بتایا اور کہا کہ اگلے ہفتے آپریشن کی کامیابی کے بارے میں ذرائع ابلاغ کو آگاہ کریں گے۔

جنرل شیر کریمی نے بتایا کہ اب تک کافی اسلحہ پکڑا جا چکا ہے اور کئی دہشت گردوں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ پکڑے جانے والے اِن انتہا پسندوں کی تعداد یا ان کے عہدوں کے بارے میں جنرل کریمی نے کچھ نہیں بتایا۔ اُن کے مطابق، اِس قسم کی معلومات فراہم کرنے کا یہ مناسب وقت نہیں ہے۔

اس سوال پر کہ وہ دہشت گرد جن کے خلاف یہ لڑائی ہو رہی ہے اگر سرحد پار کرکے پاکستان چلے جائیں تو اُن کا پیچھا کیا جائے گا، جنرل کریمی نے کہا کہ اس حوالے سے ہم پاکستان کے ساتھ رابطے میں ہیں اور اگر یہ جنگجو سرحد پار کرکے پاکستان کے علاقوں میں جائیں گے تو اُس پار پاک فوج اُن کے خلاف لڑے گی۔

جنرل کریمی کا کہنا ہے کہ اگر سرزحد کے اُس پار افغانستان کی طرف سے اور سرحد کی دوسری پار پاکستان کی طرف سے اِن دہشت گردوں کے خلاف لڑائی جاری رکھی جائے تو اس کے بہت مثبت نتائج سامنے آسکتے ہیں۔

جنرل کریمی کا کہنا تھا کہ جب دونوں اطراف سے کارروائی کی جائے گی اور آپس میں اطلاعات کا تبادلہ ہوگا تو دہشت گردی کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ اس بارے میں کئی دفعہ پاکستان سے بات چیت ہو چکی ہے۔ تاہم، اِس پر عمل کرنا ابھی باقی ہے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG